فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 31
معنے یہ ہیں کہ ہم اسی کے ہیں اور بالآخر ہم نے بھی اسی کی طرف جانا ہے اگر کوئی عزیزہ مجھے مل گیا تھا تو یہ خدا کی طرف سے ملاتھا اور اب جبکہ انہی واپس لے لیا ہے تو میرے لئے غم کی کونسی بات ہے پھر اگہ کوئی گلاس ٹوٹ گیا تو کہدیا اپنا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔یہ گلاس بھی آخر خدا تعالیٰ ہی نے دیا تھا ہم نے بھی اسی کے پاس جانا ہے وہاں اور گلاس مل جائیں گے۔غرض ہر نقصان کے وقت انا لِلهِ و انا الیهِ رَاجِعُون کہنا انسانی فطرت کو زنگ سے صاف کر دیتا ہے۔(D) پھر اگر کوئی مکروہ بات یا مکروہ نظارہ پیش آجائے تو اس موقع کو اسلام نے ذکر کے بغیر نہیں چھوڑا ملکہ ہدایت دی کہ جب کوئی مکروہ چیز دیکھو تو لا حول ولا قوة إلا بالله کہو یعنی ہر مصیبت بچنے کی اور ہر بھلائی کو حاصل کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ کے سوا اور کہیں نہیں ملتی۔(9) پھر انسان کے اندر گناہ کی کوئی تحریک پیدا ہو تو ایسے موقعہ پر استغفر اللہ کا ذکر رکھ دیا یعنی یک شیطانی حملوں سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں۔(<) پھر اعوذ باللہ کا ایک ذکر ہے جو ہر ایسے اہم کام کے شروع کرنے پر کیا جاتا ہے جس کے راستے میں شیطانی روکوں کا امکان ہو مثلاً قرآن کریم پڑھنا ایک اہم کام ہے اور چونکہ شیطان اس میں روکیں پیدا کرتا ہے اس لئے فرمایا فاذا قراتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ لِه (^) اس کے علاوہ انسان سونے لگے تب بھی ذکر موجود ہے۔چنانچہ ہدایت ہے کہ آیت الکرسی اور تینوں قل پڑھو اور اپنے سینے پر پھونک لو۔(۹) آنکھ کھلے تب بھی ذکر موجود ہے۔الحمد لله الذی احيانا بعدما اماتنا واليه النشور۔(1۔) اسی طرح بیماری کے وقت بھی ذکر موجود ہے اور شفا ہو نے پر بھی ذکر الہی موجود ہے۔پاخانہ جانا بظا ہر کتنا گند فعل ہے۔مگر وہاں بھی مناسب حال ذکر موجود ہے۔اللهم اني : نحل غ : :