فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 30 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 30

شان اللہ کر سکتے ہیں۔ہندو کشادہ کر رہے ہوں تب بھی شبانالہ کہ سکتے ہیں موٹر چلا رہے ہو تب بھی امان اللہ کہ سکتے ہیں مگر اس قسم کا ذکرہ اسلام کے علاوہ اور کس مذہب میں نہیں۔ہند کو کہو کہ وہ اپنی کتاب سے نکالے۔زردشتی کو کہو کہ وہ اپنی کتاب سے نکالے۔اس قسم کے ذکر کا دوسر ے مذاہب میں کہیں نام ونشان بھی نہیں ملے گا۔غرض خدا تعالٰی نے اس طرح عبادت کے راستے کھول دئے ہیں کہ اگر کوئی دیانتدار ہو تو وہ مجبور ہے کہ ذکر الہی کہ ہے۔(1) سب سے بڑا ذکر تو بسم اللہ ہے رسول کریم صل اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی کام کرو تو اس کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کرو بسم اللہ کے بغیروہ کام بے برکت ہو جائے گا انسان کپڑے پہنے تو بس اللہ کہے۔جوتی پہنے توسیم اللہ کہے۔پانی پئے تو ہم اللہ کہے، برتن مانجے تو ظیم اللہ کہے۔جانور ذبح کرے تو بسم اللہ کہے۔گوشت پکائے تو بسم اللہ کہے۔غرض ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کہے۔بسم اللہ میں اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ دنیا میں جس قدر چیزیں پائی جاتی ہیں یہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں اور میں اس کی اجازت کے ماتحت ان کو اپنے استعمال میں لا رہا ہوں۔مشداً جانور ذبح کرتے وقت جب وہ بسم اللہ کہتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ جانور میں نے کہ سے چھینا نہیں اللہ تعالٰی اس کا مالک ہے اس نے مجھے کہا ہے کھا لو اس لئے میں اسے ذبح کرتا ہوں پھر مریح ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی ہے کوئلہ ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کا دیا ہوا ہے برتن ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے ہیں میں تو مستعار طور پر اس کی مسکیتی چیزوں سے فائدہ اُٹھا رہا ہوں۔(۲) وسرا کہ الحمد لہ ہے جو کام کے ختم ہونے پر کیاجاتا ہے۔قرآن کریم بی بی ارتقای فرماتا ہے۔واخر دعوهم ان الحمد لله رب العالمیں مومنوں کا آخری قول یہی ہوتا ہے کہ تعریفیں اُس خُدا کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔۸۳) تیسراذکر سُبحان اللہ ہے جو ہر تعجب انگیز اور بڑے کام پر کہا جاتا ہے اگر اس پربھی غورکیا جائے تو یہ ذکرا اپنے اندر بڑی حکمتیں رکھتا ہے۔(۴) پھر مصیبت کے اوقات کیلئے اسلام نے یہ ذکر سکھایا ہے کہ اناللہ وانا الیہ راجعون ہو جکی - يونس غ :