فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 319
۳۱۹ کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ حجر اسود سے مرادیں مانگتا ہے بلکہ صرف خُدا کا قرار دادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھا جاتا ہے وہیں جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ زمین کے لئے نہیں ایسا ہی ہم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں مگر وہ بوسہ اس پتھر کے لئے نہیں پتھر تو پتھر ہے جو نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے نه نقصان مگر اس محبوب کے ہاتھ کا ہے جس نے اس کو اپنے آستانہ کا نمونہ ٹھہرایا " اے - حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ایک ویرانہ میں آبادی کی بنیا د رکھی وہاں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسمعیل کو بسایا۔اس وقت وہاں نہ پانی تھا اور نہ کسی انسان کا گذر - اس بے نظیر قربانی کا مقصد یہ تھا کہ یہ جگہ آئندہ عالم گیر ہدایت کا مرکز بنے۔اسمعیل علیہ السلام کی یہاں بجنے والی نسل سے وہ عظیم الشان نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو جو وجہ تخلیق عالم ہے جو رحمة للعالمین ہے۔جس کی لائی ہوئی تعلیم ساری دنیا کے لئے اور سارے زبانوں کے لئے ہوگی۔پھر با وجود ظاہر ساز و سامان نہ ہونے کے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مولا سے جیسی توقع کی تھی ویسا ہی ظہور میں آیا۔خدا نے وہاں غیر معمولی حالات میں پانی مہیا کیا۔یہ جگہ آہستہ آہستہ آباد ہوئی اور بکہ یا مگر کہلائی۔یہاں حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائے گئے پہلے مکان کے نا معلوم نہ مانوں سے مٹے ہوئے آثار کو تلاش کیا اور اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر اس مکان کو دوبارہ تعمیر کیا اور اسے " مَثابَةٌ لِلنَّاسِ“ بنانے کے لئے الہ تعالے کے حضور گڑ کٹر اکمی دعائیں مانگیں۔یہی وہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔اسی کا نام بیت اللہ بیت الہی۔بیت المعمور اور کعبہ ہے۔تمام دنیا کے مسلمان اس کی طرف منہ کر کے نما نہ پڑھتے ہیں۔غرض یہ گھر یہ شہر اور اس کے گرد کے مقامات ایسی جگہیں ہیں جہاں اللہ تعالی کے سینکڑوں عظیم الشان نشان ظاہر ہوئے۔جہاں کا چپہ چپہ یہ گواہی دے رہا ہے کہ جو اللہ تعالٰی کی خاطر قربانیاں دیتے ہیں اللہ ان کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ان شعائر اللہ کی یاد تازہ کرنے اور یہ یقین حاصل کرنے کے لئے کہ وہ پیچھے وعدوں والا ہے مسلمانوں کو حکم ہوا کہ وہ کعبہ اور دوسرے شعائر اللہ کی زیارت کریں اور دیکھیں کہ خُدا نے جو کچھ کہا تھا وہ کیسے اور کتنے شاندار انداز میں پورا ہوا۔- ہر قوم و ملت کا ایک مرکز اتحاد ہوتا ہے جہاں اس قوم کے افراد جمع ہو کہ خدا کی عبادت کرتے چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ هنا :