فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 318
۳۱۸ تو وہ اپنے محبوب اور معشوق کو راضی اور خوش کرنے کے لئے مختلف جتن کرتا ہے۔اپنا حال بے حال کر لیتا ہے۔دیوانوں کی طرح پھرتا ہے محبوب کے گھر کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔اس سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے پیار کرتا ہے انہیں چومنے لگتا ہے اور یہ سارے والہانہ اندانہ اس لئے اختیار کرتا ہے تاکہ اس کا محبوب کسی طرح اُس پر خوش ہو جائے۔پیار کی نظر سے اُسے دیکھے ملاپ اور وصال کی کوئی صورت نیکل آئے۔ایک مومن کا چونکہ حقیقی محبوب اس کا اللہ ہے اس لئے اس کے جذبہ محبت کی تسکین کے لئے پیار اور اس کے اظہار کے لئے کچھ نمونے حج کی عبادت میں رکھے گئے ہیں۔وہ آن سیلی دو چادریں پہنتا ہے۔سرسے ننگا ہوتا ہے۔پاؤں میں چپل ہوتے ہیں۔بال بکھرے بکھر سے سے رہتے ہیں کیونکہ کنگھی کہ نیکی اجازت نہیں - لبيك لبيك " میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں۔کہتا ہوا اللہ کے گھر کا رخ کرتا ہے حجر اسود کو چومتا ہے۔بیت اللہ کے ارد گرد گھومتا اور چکر لگاتا ہے۔یہ سب کچھ اظہار محبت کے والہانہ انداز ہیں۔شید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام حج کی اس حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔" محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے آستانہ کو بوسہ دیتی ہے۔ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لئے ایک نمونہ دیا گیا ہے اور خُدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور حجر اسود میرے آستانہ کا پتھر ہے اور ایسا حکم اس لئے دیا کہ تا انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محبت کو ظاہر کرے۔سو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر اس کے گرد گھومتے ہیں۔ایسی صورتیں بنا کر گویا خُدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں۔زینت دُور کر دیتے ہیں۔سرمنڈوا دیتے ہیں اور مجذوبوں کی شکل بنا کہ اس کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور اس پتھر کو خُدا کے آستانہ کا پتھر تصور کر کے بوسہ دیتے ہیں۔اور یہ جسمانی دلولہ روحانی تپش اور محبت کو پیدا کر دیتا ہے۔اور جسم اس کے گھر کے گرد طواف کرتا ہے اور سنگ آستانہ کو چومتا ہے اور روح اس وقت محبوب حقیقی کے گرد طواف کرتی ہے اور اس کے روحانی آستانہ کو چومتی ہے اور اس طریق میں کوئی شرک نہیں۔ایک دوست ایک دوست جاتی کا خط پا کر بھی اس کو چومتا ہے۔