فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 320 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 320

۳۲۰ ہیں۔اپنے تمدن اور اپنی ثقافت کے اجتماعی آثار دیکھتے ہیں۔افراد ملت باہمی تعارف حاصل کرتے ہیں۔ایک دوسرے کی مشکلات کو سمجھتے اور انہیں دور کرنے اور مقاصد کے حصول کے لئے متحدہ کوشش کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں ، جیسا کہ فرمایا :- وَبِكُل اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكَا لِيَذْكُرُوا اسم الله۔۔۔ہر قوم کے لئے ہم نے ایک مرکزہ بنایا ہے۔جہاں عقیدت کے جذبات کے ساتھ اپنے۔اللہ کو یاد کرنے کے لئے لوگ جمع ہوتے ہیں۔اسی تصور کے لئے حج کی عبادت کو نمونہ کا رنگ دیا گیا ہے تاکہ حج کے لئے جمع ہونے والے مسلمان اکٹھے مل کر اپنے مالک و خالق کے حسن کے گیت گائیں۔اس کے فضلوں کا شکریہ ادا کریں مشکلات دور کرنے کے لئے اس کے حضور عاجزانہ دعائیں مانگیں۔دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے مسلمان ایک دوسرے سے تعارف حاصل کریں۔اجتماعی ثقافت کی بنیادیں استوار کریں۔بارہمی مشوره اور اجتماعی جدوجہد کے مواقع پیدا کریں۔یہ سب اور کئی اور فوائد حج کی حکمت کا حصہ ہیں۔مقامات حج بیت اللہ : ہزار ہا سال گزرے کہ اللہ تعالٰی کے حکم سے ایک ویرانے میں عبادت کے لئے ایک معبد بنایا گیا تھا۔اس کے بنانے والے کے متعلق یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ کون تھا۔لیکن یہ امر یقینی ہے کہ وہ معبد قومی اور ملی ہونے کے لحاظ سے دنیا میں سب سے پہلا معبد تھا۔عالم الغیب خُدا خود اس کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :- ان اولَ بَيْتِ وَضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَةُ۔نیز فرمایا : جَعَلَ اللهُ الكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيمًا لِلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامِ غرض کچھ عرصہ تک لوگ اس معبد میں خدا تعالیٰ کا نام لیتے یہ ہے لیکن نا معلوم کیا تغیرات ہوئے کہ وہ جگہ ویران ہو گئی اور عبادت کرنے والے لوگ پراگندہ ہو گئے۔مگر اللہ تعالیٰ کو یہ جگہ پیاری تھی پس اس نے ارادہ کیا کہ وہ اُسے پھر سے آباد کر سے اور ہمیشہ کے لیئے دنیا کی ہدایت کا مرکز بنائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آبادی کے لئے ایک ایسا مصفی انسان چنا جس کی اولاد نے اپنی نورانی شعاعوں سے آج تک دنیا کو روشن کر رکھا ہے۔هر الحج : ۳۵ ه ال عمران : 94 که : مائده : ۱۹۸