فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 284
حضرت عمرہ کے زمانہ میں ایک علاقہ کے لوگوں نے دوپہر کے بعد چاند دیکھا اور اسی وقت روز سے کھول لئے۔حضرت عمر کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے انہیں تنبیہ فرمائی اور لکھا کہ اگر چاند دو پہر سے پہلے دیکھا جائے تو پھر روزہ توڑ دینا چاہیے۔لیکن اگر دو پہر کے بعد نظر آئے تو پھر روزہ مکمل کرنا چاہیئے اور غروب آفتاب کے بعد کھولنا چاہیے۔سوال :۔امریکہ کے ایک نو مسلم نے لکھا ” اس وقت میں روزہ سے رکھ رہا ہوں کو مجھے مجھے علم نہیں کہ رمضان کس تاریخ کو شروع ہوا۔میں نے روز سے گذشتہ ماہ کی اور تاریخ کو شروع کئے تھے اور اس ماہ کی ۲۰ر تاریخ تک رکھوں گا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نہ نے اس کے جواب میں فرمایا : - رمضان المبارک در مئی سے ۲ جون تک رہا اور سر جون کو عید ہوئی لیکن جس شخص کو علم نہ ہو کہ رمضان کب شروع ہوا کب ختم ہوا، وہ جس وقت بھی روزے رکھے خدا تعالٰی کے نزدیک وہی مقبول ہیں کیونکہ ہمارا خدا ہمارے علم کے مطابق ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔اگر وہ اپنے علم کے مطابق ہم سے مطالبہ کرے تو دنیا کا کوئی انسان بھی نجات نہ پائے " لے روزہ اور نیت سوال : کیا روزہ کے لئے نیت ضروری ہے ؟ جواب :۔حضور نے فرمایا :- " روزے کے لئے نیت ضروری ہے۔بغیر نیت کا ثواب نہیں نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔افق مشرق پر سیاہ دھاری سے سفید دھار ی شمالاً جنوباً ظاہر ہونے تک کھانا پینا جائز ہے۔اگر اپنی طرف سے احتیاط ہو اور بعد میں کوئی کہے کہ اس وقت سفیدی ظاہر ہو گئی تھی تو روزہ ہو جاتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانا۔کھانے اور نماز فجر میں ۵۰ آیت پڑھنے تک وقفہ ہوتا تھا " ہے ایک شخص صبح سے شام تک بغیر کچھ کھائے پیئے سویا رہا یا کسی کام میں ایسا منہمک ہوا کہ کھانے پینے کی ہوش ہی نہ رہی تو اس شخص کے اس فاقہ کو روزہ سمجھنا درست نہ ہوگا۔کیونکہ روزہ رکھنے ل : الفضل ۲۸ جولائی ۶۹۵۴ له الفضل ۲۸ جولائی ۱۹۱۲م :