فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 283
۲۸۳ دوپہر سے پہلے نظر آئے تو پھر چاند دیکھتے ہی روزہ توڑ دینا چاہیئے۔کیونکہ یہ در اصل یکم شوال یعنی عید کا دن ہوگا۔۲۹ یا ۳۰ ر رمضان کا دن نہ ہو گا۔حضرت عمر نے عتبہ بن فرقد کو ایک خط میں لکھا :- ۱- اگر چاند صبح کو نظر آئے تو روزہ توڑ دو کیونکہ وہ کل کا ہے اور اگر چاند آخر دن میں نظر آئے تو اس دن کا روزہ پورا کر لو کیونکہ وہ آنے والی کل کا ہے۔۲ - کچھ نئے چاند بڑے ہوتے ہیں۔اس لئے اگر تم دن میں چاند دیکھو تو اس وقت تک روزہ نہ توڑو جب تک دو مسلمان گواہی نہ دیں کہ انہوں نے گذشتہ رات چاند دیکھا تھا۔اے علامہ ابن رشد اپنی مشہور کتاب "بداية المجتهد" میں لکھتے ہیں :- قَالَ أَبُو يُوسُفَ مِنْ أَصْحَابِ رَبِي حَنِيفَةَ وَالثَّوْرِي وَابْنُ جِيْبِ مِنْ اَصْحَابِ مَالِكِ إِذَا رُؤى الهِلَالُ قَبْلَ الزَّوَالِ فَهُوَ لَيْلَةِ المَاضِيَةِ وَإِنْ رُوَى بَعْدَ الزَّوَالِ فَهُوَ لِلْآتِيَةِ - وَرَوَى الثَّورِيُّ انَّهُ بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِنَّ قَوْ مَا رَأَوُا الْهِلَالَ بعْدَ الزَّوَالِ فَا فَطَرُوا فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ يَلُومُهُمْ وَقَالَ إِذَا ر ANALOGOLE LALENT نِهَارًا قَبْلَ الزَّوَالِ فَافَطِرُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ بَعْدَ الزَّوَالِ فَلَا تَفْطِرُوا " : یعنی حنفیوں میں سے امام ابو یوسف اور مالکیوں میں سے ابن حبیب نیز امام ثوری کا مسلک یہ ہے کہ اگر شوال کا چاند دو پہر سے پہلے نظر آجائے تو روزہ فوراً توڑ دینا چاہیے کیونکہ یہ چاند آنے والی رات کا نہیں بلکہ گذشتہ رات کا ہے اور یہ دن یکم شوال کا گذر رہا ہے۔۳۲۵ ے:۔حضرت عمر کے سرکاری خطوط از خورشید احمد فاروقی ص۲۳ بحوالہ کنز العمال منقول اثر مصنف ابن ابی 140 - بداية المجتهد كتاب الصوم ما : شیبه قلمی من : : بعض ماہرین ہیت کی رائے یہ ہے کہ یہ صورت درست نہیں ہے کیونکہ پہلی کا چاند دوپہر سے پہلے نظر نہیں آسکتا لیکن محترم مرزا عبدالحق صاحب صدر تدوین فقہ کمیٹی کا بیان ہے کہ شہداء میں خود انہوں نے دس بجے چاند دیکھا : -