فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 285 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 285

۲۸۵ کی اس کی نیت ہی نہ تھی اور نہ ہی اس کا یہ فاقہ اس ارادہ سے تھا کہ اس کا روزہ ہے۔سوال : اگر بوقت سحری روزہ کی نیت نہ تھی لیکن - ایا 1 بجے دن کے روزہ کا ارادہ کر لیا تو کیا اس کا روزہ ہو جائے گا ؟ جوا ہے :۔روزہ کی نیست طلوع فجر سے پہلے کی جانی چاہئیے۔البتہ اگر کوئی عذر ہو مثلاً اسے علم نہیں ہو سکا کہ آج سے رمضان شروع ہے یا سویا رہا صبح بیدار ہونے پر پتہ چلا کہ آج تو روزہ ہے یا کوئی اور اسی قسم کا عذر ہے تو وہ دوپہر سے پہلے پہلے اس دن کے روزہ کی نیت کر سکتا ہے۔بشرطیکہ اس نے طلوع فجر کے بعد سے کچھ کھایا پیا نہ ہو۔حضرت ابن عمر سے روایت ہے :- عن ابن عمر عن حفصة عن النبي صلى الله عليهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ قَالَ مَنْ لَمْ يَجْمَعِ القِيَا مَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَا مَلَهُ ثواه الخمسة۔یعنی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔روزہ صرف اُسی شخص کا ہے جس نے پختہ۔فجر سے پہلے پختہ عزم کے ساتھ روزہ کی نیت کرلی ہو۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اور حدیث ہے کہ :- إِنَّهُ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ غَدَاءٍ فَانَ قَالُو الأَ قَالَ فَإِنِّي صَائِم له یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم بعض دفعہ گھر تشریف لاتے اور دریافت فرماتے کہ اور ناشتہ کے لئے کوئی چیز ہے ؟ اگر یہ خواب ملتا کہ کچھ نہیں تو آپ فرماتے اچھا آج میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر فجر سے پہلے نیت کرنے میں کوئی عذر ہو تو دن کے وقت بھی روزے کی نیست کی جاسکتی ہے۔گو حضور علیہ السلام کے یہ روز سے نقلی تھے۔اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ ایک بارد و پہر سے پہلے خبر ملی کہ کل رمضان کا چاند مدینہ کی کسی مضافاتی بستی میں دیکھ لیا گیا تھا۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا جس نے صبح سے ه: نیل الاوطار باب وجوب الفنيته من الليل ما ، ترندی کتاب العلوم باب لا صيام لمن لم يعتزم من الليل ما ہے: مسلم کتاب الصوم باب جواز صوم النافلة بينة من النهار ما :