فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 257 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 257

۲۵۰ جواب :۔میت اگر ایک جگہ دفن ہوا اور ضرورت کی بناء پر اُسے دوسری جگہ یا دوسر نے ملک میں منتقل کرنا ہو تو اس میں کوئی شرعی روک نہیں ہے۔اصل مقصد میت کی توقیر ہے۔اگر نعش نکالنے کا مقصد اس کی تحقیرنہ ہو بلکہ کوئی مفید اور مسلم غرض ہو تو نعش کو قبر سے نکالا جاسکتا ہے خصوصا جبکہ وہ بکس میں محفوظ ہو۔ضرورت اور مصلحت کا فیصلہ مسلمانوں کے مرکزی نظام یا مقامی تنظیم کو کہ نا چاہئے۔اصل مقصد بو سے بچنا ہے اگر بو نہیں تو عرصہ کی تعیین کے بغیر بھی کیس نکالا جاسکتا ہے۔عرصہ اور مدت کوئی شرعی مسئلہ نہیں بلکہ اندازہ اور تجربہ کی بناء پر چھ ماہ یا سال کی مدت بنائی جاتی ہے کہ اس عرصہ میں بالعموم بو ختم ہو جاتی ہے اور نعش خشک ہو جاتی ہے۔(۳) سابقہ فقہاء کی آراء اور بعض واقعات کے حوالے درج ذیل ہیں :- كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَدْخُصُ فِي نَقْلِ الْمَيِّتِ وَنَبْشِ قَبْرِه لِمَصْلِحَةٍ - له مَاتَ سَعْدُ بْنِ أَبِى وَقَاصِ وَسَعِيدُ بْن زَيْدٍ بِقَصْرِهِمَا بِالْعَتِيقِ فعمِلَا إِلَى الْمَدِينَةِ وَدُفِنَا بِهَا - له تُونَى عَبْدُ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بِالْعَبْتَهُ (اسمٌ مَكانٍ، فَحُمِلَ إِلَى مَكَةَ وَدُيْنَ بِهَا۔۔۔۔۔حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السلام کی نعشیں مصر سے منتقل کر کے فلسطین لائی گئیں۔٥٣ ٢ (۵) تابوب کے جواز کے بارہ میں مندرجہ ذیل سند قابل مطالعہ ہے :- (الف) لا بأس باتخاذ التَّابُوتِ وَلَوْ بِحَجْرٍ وَحَدِيدٍ عِنْدَ الْحَاجَةِ كَرَ فَاوَةِ الْأَرْضِ - اِسْتَحْسَن مَشَائِخُنَا اِتِّخَاذَ التَّابُوتِ لِلنِساءِ وَلَوْ لَمْ تَكُنِ الْأَرْضُ رَخْوَةٌ فَإِنَّهُ اَقْرَبُ إِلى السَّتْرِ وَ التَّعَرُّرِ مَن مَتِهَا عِنْدَ الْوَضْعِ فِي الْقَبْرِ م ۵۳۰۲۱ : کشف الغمر ص ا باب فى نقل الميت : : - (الف) طبرى الجزء اول تاریخ الائم و الملوك ص ٣-٤ ) (ب) البدایہ والنہایہ ص۳۲ - (ج) رد المختار : - ه - - ردالمختار ص ٣