فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 256 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 256

۲۵۶ - حدیث کے الفاظ یہ ہیں : عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَدَ انَّهُ قَالَ مُلَ عَلَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ في الْمَسْجِدِ " ۳ - صاحب شرح وقایہ لکھتے ہیں :- كرِهَتْ فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ إِنْ كَانَ الْمَيْتُ فِيْهِ وَإِنْ كَانَتْ خَارِجَةٌ۔۔۔۔۔۔۔لا تَكْرَهُ عِنْدَ الْمَشَاخ - له یعنی مسجد میں میت رکھ کر جنازہ پڑھنا بعض علماء کے نزدیک مکہ وہ اور نا پسندیدہ ہے لیکن اگر نمازی مسجد میں ہوں اور میت مسجد سے باہر ہو تو یہ جائزہ ہے اور مکروہ نہیں ہے۔سے سوال : نماز جنازہ جوتیوں سمیت اور ننگے سر ادا کرنا کیسا ہے ؟ جواب۔(الف) - حدیث میں یہ امر پوری وضاحت کے ساتھ آیا ہے کہ جوتی کے ساتھ نماز جائز ہے حدیث کی ہر مشہور کتاب میں یہ روایت موجود ہے۔ہم جو مساجد میں جوتیاں سے جانے سے منع کرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مساجد میں صفائی رہے۔دریاں اور فرش گند سے نہ ہوں ورنہ یہ ممانعت کسی شرعی حکم کی وجہ سے نہیں ہے۔نمازہ جنازہ چونکہ سجدے باہر ہوتی ہے اس لئے جوتیاں پہن کہ نمازہ جنازہ ادا کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔(ب) ننگے سر نماز ادا کرنا پسندیدہ امر نہیں کیونکہ یہ امر بزرگوں اور سلف صالحین کے طریق کے خلاف ہے اس لئے معیوب ہے۔سوال :۔نماز جنازہ بعد نماز عصر - جواہے :۔نماز جنازہ کسی وقت بھی ہو سکتی ہے۔نماز عصر کے بعد بھی اور نما نہ فجر کے بعد بھی۔اس میں کوئی شرعی روک نہیں ہے۔البتہ حنفی اور بعض مسلمان فرقے مکروہ اوقات میں نماز جنازہ پسندیدہ نہیں سمجھتے۔سے سوال :۔تدفین کے بعد نعش ایک ملک سے دوسرے ملک میں سے جانا نیز کتنے عرصہ بعد نعش نکال سکتے ہیں۔اور تابوت کی کیا سند ہے ؟ ے : موطا امام مالک باب الصلوة على الجنازة في المسجد مث ونصب الرايه قله ۲ : ۵۲:- شرح وقایہ ص ۲۵ : :- نیز دیکھیں کتاب الفقه على المذاهب الاربعه من : : - الف، ترندی باب کرا تبر الصلوة على الجنازه قاب ، شرح وقایه كتاب الصلوة ما