فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 223 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 223

ہوا ہے :۔یہ خیال درست نہیں کہ جس جگہ ایک دفعہ مسجد بن جائے اس جگہ کو پھر کبھی بھی خواہ کیسے ہی حالات در پیش ہوں کسی اور غرض کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔اصل خرابی جھلی کو روکنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ اس قسم کے بہانے سے ایسی جگہ کے غلط استعمال کا راستہ نہ کھلے۔یالوگوں کی مرضی کے خلاف کارروائی کرنے کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔اگر کوئی جائنہ وجہ موجود ہے مثلاً جگہ تنگ ہے اور وسیع جگہ میں مسجد تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اور اس مسجد سے تعلق رکھنے والے لوگ اس تبدیلی پر راضی ہیں اور مرکز سے اس تبدیلی کی اجازت حاصل کرلی گئی ہے اور فتنہ کے اُٹھنے کا کوئی موقعہ ممکن نہیں تو ایسی تبدیلی شرعًا جائز ہے اور پہلی مسجد کی جگہ کو حسب حالات کسی اور قومی یا انفرادی مصرف میں لایا جا سکتا ہے۔سوال :۔موجودہ احمدیہ مسجد حاضری کے لحاظ سے ناکافی ہے اس کے اردگرد غیر احدی آباد ہیں کیا ہم یہ مسجد غیر احمدیوں کو مفت دیدیں یا ان سے کچھ رقم وصول کر کے نئی مسجد میں خرچ کریں یا اس مسجد کو مبلغ کے لئے رہائشی کوارٹر میں تبدیل کر دیں اور اپنے لئے نئی مسجد بنائیں ؟ جواب :۔مقامی جماعت کی رضا مندی اور مرکز کی اجازت سے یہ مسجد دوسرے عام مسلمانوں کے حوالے کر سکتے ہیں۔بہتر ہے کہ بلا معاوضہ دی جائے ہاں اگر وہ از خود احمدیوں کی زیر تعمیر مسجد میں مدد کرنا چاہیں تو ایسی امداد لینے میں کوئی حرج نہیں۔مسجد کا ایک حصہ مکان میں ملانا ایک شخص نے مکان کے ایک حصہ کو مسجد بنایا اور اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔تو کیب اس جگہ کو مکان میں ملایا جا سکتا ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا : ہاں ملالیا جاو سے لے سوال: مسجد کا ایک حصہ اس طرح سے الگ کرنا جائز ہے کہ اس میں عورتیں مخصوص ایام میں بھی آسکیں اور اس حقہ میں اپنا اجلاس کر سکیں ؟ جوا ہے :۔اگر تو شروع تعمیر سے ہی یہ صورت ہے تو پھر جائز ہے لیکن اگر پہلے سارے حصے بطور مسجد استعمال ہوتے اور مسجد محسوب ہوتے تھے اور بعد میں یہ صورت کی گئی ہے تو خلیفہ وقت کی خاص اجازت کے بغیر ایسی تبدیلی جائزہ نہیں۔: الحكم ار اکتوبر شراء