فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 224
۲۲۴ مسجد اور رہائشی کوارٹر وال: مسجد کے صحن کے ایک حصہ میں امام الصلوۃ کے لئے بالاخانہ کے طور پر کوارٹر بنانا جائز ہے؟ جواب : اگر ضرورت واضح ہو اور اس کے بغیر مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو مسجد کے صحن کے ایک حصہ کے اوپر امام کے لئے بالاخانہ کی طرز کار ہائشی کوارٹر بنانا جائزہ ہے بشر طیکہ کوارٹر میں آنے جانے کا راستہ مسجد کے صحن میں سے نہ گزرے۔اسی طرح اس کا پر نالہ وغیرہ بھی دوسری طرف ہو۔چنانچہ اس بارہ میں فقہائے حنفیہ کی یہ رائے بیان کی گئی ہے۔لَوْ بَنَى فَوْقَهُ رَبِّي فَوْقَ الْمَسْجِدِ بَيْنَا لِلإِمَامِ لَا يَضُرُّ لِاَنَّهُ مِنَ الْمَصَالِح۔اسی طرح مصدا یہ میں ہے :- عَنْ أَبِى يُوْسُفَ أَنَّهُ جَوَدَ بِنَاءَ الْبَيْتِ) فِي الْوَجْهَيْنِ رَى فَوْقَ الْمَسْجِدِ وَتَحْتَهُ حِيْنَ قَدِمَ الْبَغْدَادَ وَرَاى ضِيقَ الْمَنَازِلِ نكانة إعتبر الضَّرُورَة وَمَنْ مُحَمَّدٍ حِينَ دَخَلَ الرَّيْ جَازَ ذلك كله لما قلنا - ته سوال : کیا مساجد کو بے حرمتی سے بچانے کے لئے گرا دینا جائز ہے ؟ جوا ہے :۔اگر ایسے حالات موجود ہوں کہ کسی جگہ کو آباد نہ رکھا جا سکتا ہو مثلاً مسلمان اس جگہ کو کسی وجہ سے چھوڑ آئے ہوں اور مسجد ویران ہو گئی ہو یا اس بات کا خدشہ ہو کہ عدم نگرانی و حفاظت کی وجہ سے غیر مسلم مسجد کی بے حرمتی کریں گے تو ایسی صورت میں مرکز یا مقامی جماعت کے مشورہ سے مسجد کو مسمار کیا جا سکتا ہے اور اس کا ملبہ دوسری مساجد کی تعمیر کے لئے استعمال ہوسکتا ہے۔نیز یہ بھی جائزہ ہے کہ اس علہ کو فروخت کر کے اس کی رقم دوسری آباد مسجد کے مصارف میں خورج کی جائے۔علماء نے مسجد یا دوسری وقف جائیدادوں میں اس قسم کے تصرف سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تا اس طرح کہیں مسجد کے اموال میں نا جائزہ تصرف کی راہ نہ کھل جائے۔لیکن اگر یہ وجہ نہ ہو بلکہ ضرورت اور مجبوری واضح ہو اور مقامی جماعت کی درخواست پر مرکز اس کی اجازت دے تو ه باشيد و المختار ما هدایت اولین کتابه الوقت له مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور ۱۳۲