فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 222 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 222

۲۴۲ الانْتِفَاعُ بِشَيُّ مِنْهُ بَيْعَ جَمِيعُة - ب د : وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ إِذَا خَرِبَ الْمَسْجِدُ أو الوَقْفُ عَادَ إلى مِلْكِ وَاقِفِهِ لِأَنَّ الْوَتُفَ انْمَا هُوَ تَسْبِيلُ الْمَنْفَعَةِ فَإِذَا زَالَتْ مَنْفَعَتُهُ زَالَ حَقٌّ الْمَوْتُوفِ عَلَيْهِ مِنْهُ فَزَالَ مِنكُهُ عَنْهُ يه مسجد کی جگہ یا مسجد کا طلبہ فروخت کرنے کی ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس طرح کہیں مسجد کے اموال پر ناجائز تصرف کی راہ نہ کھل جائے۔لیکن اگر اس قسم کا کوئی خدشہ نہ ہو اور مسجد کا علیہ جماعت کے باہمی مشورہ سے فروخت کیا جائے اور اس کا فروخت کرنا مسجد کے لئے سود مند ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور نہ کوئی گناہ ہے۔سوال : - ایک شخص نے مسجد بنانے کے لئے جگہ دی لیکن اُسے مسجد کی بجائے عام بیٹھنے کی جگہ بنا دیا گیا۔کیا یہ جائز ہے ؟ ہواہے :۔جو زمین مسجد کی غرض سے دی گئی ہے وہ مسجد کے لئے ہی صرف ہونی چاہیئے اور مرکز کی اجازت کے بغیر اسے کسی اور اجتماعی مقصد کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔خصوصا یک یہ کنندہ اس کے لئے راضی بھی نہ ہو۔سوال۔ایک عورت نے مسجد بنانے کے لئے زمین دی مسجد وہاں پر تعمیر ہوئی لیکن اب وہ گیر چکی ہے۔اس جگہ کی بجائے اب قریب ہی کھلی جگہ میں مسجد بنائی گئی ہے۔کیا پہلی مسجد کی جگہ میں معلم کے لئے کوارٹر بنا سکتے ہیں ؟ جواب :۔صورت مذکورہ کے مطابق اس جگہ پر جہاں مسجد تھی اور اب گر گئی ہے اور اس کی بجائے دوسری جگہ مسجد بنائی گئی ہے مقامی جماعت کے باہمی مشورہ اور مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بعد اس قسم کی کوئی عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے جو اجتماعی مقاصد کے کام آئے مثلاً اسکول یا لائبریری کے لئے یا معلم اور مرتی کی رہائیش کے لئے اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس میں کوئی شرعی روک نہیں ہے۔سوال :۔ہمارے گاؤں میں ہماری مسجد بہت چھوٹی اور کچھ ہے۔چھوٹی اتنی کہ بمشکل ایک صف ہی بنتی ہے۔اب لوگوں نے صلاح و مشورہ سے یہ طے کیا ہے کہ یا تو اس مسجد کو ہی پکا بنایا جائے یا پھر باہر دوسری جگہ پر بڑی مسجد بنائی جائے۔اب سوال یہ ہے کہ آیا مسجدکی یہ جگہ کسی اور کام میں لائی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ ه : المغنی لابن قدامه باب الوقف مثه جلده که المغنی لابن قدامه من اهم الاحوال الشخصية على المذاهب الخمر من :