فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 221
۲۲۱ کے بعد مسجد کی جگہ تبدیل کرنا اور اس کے طلبہ کو فروخت کر کے اسے مسجد کی ضروریات میں صرف کرنا جماعت احمدیہ کے مسلک کے مطابق جائز ہے کیونکہ مفاد عامہ اور نمازیوں کی جائز سہولت کو بہر حال ترجیح حاصل ہے۔سابق ائمہ اور علماء میں اس کے متعلق اختلاف ہے۔عام حنفیوں کا خیال یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں خواہ آبادی کے منتقل ہو جانے کی وجہ سے مسجد ویران ہی کیوں نہ ہو گئی ہو۔ان کی بنیاد یہ حدیث ہے :- لا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا تُبْتَاعُ وَلَا تُوْهَبُ وَلَا تُوْرَتُ۔جنبلی یعنی امام احمد بن حنبل کے متبعین اسے جائز سمجھتے ہیں۔جنفی ائمہ میں سے امام محمد بھی اس رائے سے متفق ہیں۔مزید حوالے درج ذیل ہیں :- الفت : - اِنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلى سَعْدِ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّهُ قَدْ نُقِبَ بَيْتُ الْمَالِ الَّذِي بِالكُونَةِ انْقُلِ الْمَسْجِدَ الَّذِى بِالثَّمَارِينَ وَاجْعَلْ بَيْتَ الْمَالِ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُ لَقَ يَزَالَ فِي الْمَسْجِدِ مُصَل وَكَانَ هَذَا مَشْهَدِ مِنَ الصَّحَابَةِ وَلَمْ يَظْهرُ خِلَافَةَ فكان إجماعا له ب : - قَالَ الْحَنَابِلَةُ إِذَا نَتَقَلَ اَهْلُ الْقَرْيَةِ عَنِ الْمَسْجِدِ وَصَارَ فِي مَوْضِعِ لَا يُصَلَّى فِيهِ وضَاقَ بِأَهْلِهِ وَلَمْ يُمْكِن تُوَسِيعُهُ وَلَا عِمَارَةً بَعْضِهِ إِلَّا بِبَيْعِ بَعْضِهِ جَازَ - وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الانْتِفَاعُ بِشَيْءٍ إِلَّا بِبَيْعِ يُبَاءُ - که ج : مَسْجِدٌ انْتَقَلَ اَهْلُ الْقَرْيَةٍ عَنْهُ وَصَارَ فِي مَوْضِع لا يُصَلى فِيْهِ أَوْضَاقَ بِأَهْلِهِ وَلَمْ يَكُن تَوْسِيعُهُ فِي مَوْضِعِ او تَشَعَبَ جَمِيعُهُ فَلَا تُمْكَنُ عِمَارَتُهُ وَلَا عِمَارَةُ بَعْضِهِ إِلَّا بِبَيْعِ بَعْضِهِ جَازَ بَيْعَ بَعْضِهِ لِتَعْمَرَ بِهِ بَقِيَّتُهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ ه المعنى لابن قدامه جلده : : المغنى باب الوقف مشده جلده : - الاحوال الشخصية على مذاهب الخمسة من مؤلف محمد جواد مغنیه مطبوعہ بیروت ۳ ئه :