فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 220 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 220

سوال: کیا مسجد کا صحن مسجد کا حصہ ہوتا ہے ؟ جواہے : جس جگہ کی حد بندی اس غرض سے کر دی جائے کہ یہ مسجد ہے یہاں لوگ نماز پڑھیں اور اس کی عام اجازت ہوا اور لوگ اس جگہ میں نماز پڑھنا شروع کر دیں تو یہ جگہ مسجد کہلائے گی مسجد کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس پر چھت بھی ہو۔مسجد حرام جو سب سے بڑی اور افضل ترین مسجد ہے اس کا اکثر حصہ بصورت ضمن چھت کے بغیر ہے۔حدیثوں میں آتا ہے۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض اوقات مسجد کے صحن میں خیمے نصب کر کے ان میں رہائش اختیار کی جاتی تھی۔جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ کے لئے جبکہ وہ جنگ میں زخمی ہو گئے تھے مسجد میں خیمہ نصب کیا گیا تھائیے ظاہر ہے کہ یہ خیمہ چھت والے حصہ کے اندر نصب نہیں کیا گیا تھا۔اسی طرح مسلمانوں کا چودہ سو سالہ تعامل اس امر کی واضح دلیل ہے کہ صحن مسجد کا ہی حصہ ہے۔سوال :۔جیسا کہ عام مسلمانوں کا معمول ہے کہ جہاں بھی کچھ عرصہ قیام کریں اس جگہ جائے نماند (مسجد انی طور پر تجویز کیا کرتے ہیں۔کیا ایسی جگہ مستقل مسجد کا حکم رکھتی ہے اور اس کی خرید و فروخت منع ہوا ہے : مسجد جس کی خرید و فروخت منع ہے وہ ، وہ ہے جو باقاعدہ پبلک مسجد ہو۔اُسے بنانے والے نے اپنے ملک سے نکال کر وقف عام کیا ہو اور قومی ملکیت میں آکر ہر شخص کا حق اس پر قائم ہو چکا ہو۔لیکن جو جائے نماز عارضی طور پر بنائی گئی ہے وہ باقاعدہ مسجد نہیں۔ضرورت پڑنے پر اُسے گرایا جا سکتا ہے۔اور فروخت بھی کیا جا سکتا ہے۔اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں۔حکومت کی ملکیت پبلک جگہ میں جو مسجد بنائی بجائے اس کے لئے حکومت سے اجازت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ورنہ وہ باقاعدہ مسجد نہ ہوگی۔اور حکومت کو اُسے ضبط کر لینے کا اختیار ہوگا۔کیونکہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی کی زمین پر قبضہ ناجائز متصور ہوتا ہے۔مسجد کی جگہ تبدیل کرنا سوال : کیا ہے آباد مسجد کو گرا کر اس جگہ کوئی اور عمارت تعمیر کر سکتے ہیں۔کیا مسجد کی جگہ تبدیل ہو سکتی ہے ؟ جوا ہے :۔اہم ضرورت اور عوام کی سہولت کے پیش نظر مقامی جماعت کے فیصلہ اور مرکز کی اجازت له : بخاری کتاب المغازی باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الاحزاب طلال :