فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 219
۲۱۹ آداب مسجد مسجد خُدا کا گھر ہے اس میں نماز اور ذکر الہی ہونا چاہیئے۔دنیوی معاملات سے متعلق باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔اسی طرح شور بھی نہیں ہونا چاہئیے۔مساجد صاف ستھری ہوں صفیں پاک ہوں مسجد میں خوشبو جلانا بھی مستحسن ہے۔اسی طرح مسجد میں صاف کپڑے پہن کر اور خوشبو لگا کر جانا پسندیدہ ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں کھا کر جانا چاہیے جیسے بو آتی ہو سکا پیاز۔لہسن اور مولی وغیرہ لیے مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی دُعا یہ ہے :- بسمِ اللهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُونِي وَافْتَحَ لِي ابْوَابَ رَحْمَتِكَ۔اللہ کے نام کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلامتی ہو۔اسے میرے اللہ میرے گناہ بخش اور میرے لئے اپنی رحمت اور فضل کے دروازہ سے کھول دے سکے سوال : مسجد زیر تعمیر ہے۔کیا عورتوں کے لئے مسجد کے دائیں پہلو جگہ بنائی جائے یا بائیں پہلو ؟ جوا ہے :۔اصل حکم جو احادیث سے ثابت ہے اور ائمہ فقہ میں متفق علیہ ہے وہ یہ ہے کہ عورتوں کی صفیں مردوں کی صفوں کے پیچھے ہوں لیکن ایسا کرنے میں اگر کوئی وقت ہو اور پیچھے کی بجائے پہلو میں جگہ متعین کرنی پڑے تو پھر مردوں کی مصنفوں سے بائیں جانب جگہ متعین کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔گو یہ ضروری نہیں۔سابق ائمہ یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عورتوں کی صف پہلو میں بنانے کے بارہ میں کوئی تصریح نہیں مل سکی۔قادیان کی مسجد اقصیٰ میں عورتوں کی صف بائیں جانب اور مسجد مبارک میں دائیں جانب ہوا کرتی تھی۔اور اب ربوہ کی مسجد مبارک میں بائیں جانب اور مسجد اقصی میں اوپر کی گیلیری میں پیچھے اور دائیں و بائیں صفیں بنتی ہیں۔له : مسلم كتاب الصلوة باب نهى من اكل ثو ما أو بصلا اوكرانا او نحوها۔من مصری به سے : - ترمذی ابواب الصلاة باب ما يقول عند وحوله المسجد ص۔