فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 205 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 205

۲۰۵ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو آٹھ رکعت نماز پڑھائی اور پھر وتر پڑھائے۔عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ انَّهُ قَالَ أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ ابى بن كَعْب وَتَمَيْمَ الدَّارِي أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِاحْذَى عَشَرَةً رَكْعَة - له یعنی حضرت عمر نے ابی بن کعبے اور تمیم داری کو فرمایا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت ڈیموں وتر ) تراویح پڑھایا کریں۔أخْرَجَ ابو داود ان ابي بن كَعْبٍ كَانَ يُؤْتُهُمْ فِي التَّرَادِيمِ وَ يقنت في النِّصْفِ الْآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ - له یعنی حضرت ابی تراویح پڑھاتے اور رمضان کے نصف آخر میں وتروں میں قنوت بھی پڑھتے۔ان احادیث کی بناء پر ائمہ فقہ رمضان المبارک میں وتر با جماعت کو جائز سمجھتے ہیں۔چنانچہ حنفیوں کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے: لا يُصَلى الوِثر بجمَاعَةٍ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ عَلَيْهِ إِجْمَاعُ الْمُسْلِمِينَ له سوال:- وتر نماز کی قضاء کی جائے یا نہیں ؟ ہوا ہے :۔فرضوں کی قضاء ضروری ہوتی ہے۔وتروں کی قضاء اس طرح ضروری تو نہیں لیکن پڑھنا اولیٰ ہے۔طلوع فجر کے بعد نماز سے پہلے پہلے بھی اور سورج نکلنے کے بعد بھی جس وقت چاہیے وتروں کی قضاء کر سکتا ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- (1) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُصَلِ مِنَ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِن ذَلِكَ النَّوْمُ ادْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثنى عَشْرَةَ رَكْعَة له عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَنْ خَامَ عَنِ الْوِتْرِ اَوْ نَسِيَهُ نَلْيُصَلِ إِذَا ذَكَرَ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ له ته یعنی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص سو جانے کی وجہ سے وتر نہیں پڑھ سکا وہ جاگنے پر جب یاد آئیں وتر پڑھ لئے۔موطا امام مالك باب الترغيب في الصلواة في رمضان من : ه: - حاشیه شرح وقایہ ص : ه هدایه ، فصل فی قیام رمضان هنا : : ترندی البواب الوتر باب في الرجل ينام عن الاترص : ترمذی ابواب صلواة الليل من ب