فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 204
الف: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ہے :۔حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ ایک رات میں دو دفعہ وتر نہ پڑھے جائیں اور صورت مذکورہ میں تو ایک طرح سے تین دفعہ وتر پڑھنے کی شکل بن جاتی ہے۔ج :۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک رکعت تو سونے سے پہلے پڑھی جائے اور پھر درمیان میں انسان سوئے۔پیشاب پاخانہ کرے۔باتیں کر ہے۔وضو کر ہے اور پھر ایک رکعت پڑھے اور وہ پہلے پڑھی ہوئی رکعت کا حصہ بن کر دو رکعت کی ایک نماز یعنی دوگا نہ شمار ہو اصول نماز میں ہمیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔د - آخری نماز ہونے کا حکم عمومی ہے لازمی نہیں۔کیونکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و ہم بعض اوقات وتروں کے بعد دو رکعت نفل میٹھے کہ پڑھا کرتے تھے۔جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے :- عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سُئِلَتْ عَائِشَةُ مَنْ صَلوةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ انْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ المَدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنَ صلاة الصبح له پس ضروری نہیں کہ رات کی آخری نمازہ کو و تر بنانے کے لئے یہ حیلہ اختیار کیا جائے۔تاہم اگر کوئی چاہیے تو حضرت ابن عمرہ کے مسلک کو اختیار کرتے ہوئے ایسا کر سکتا ہے۔وتر با جماعة سوال : - رمضان المبارک میں تراویح کے ساتھ وہ بھی باجماعت پڑھے جاتے ہیں۔کیا ایسا کرنا ضروری ہے؟ جواب : رمضان المبارک میں وتر کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بارہ میں بعض احادیث سے استنباط - ہوتا ہے۔مثلاً 1 - أَخْرَجَ ابْنُ حَمَان فِي صَحِيحِهِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم صَلَى بِهِمْ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ ارْتَرَ - ٢ له يسلم باب جواز النافلة قائما وقامدا ص : نیل الاوطار باب صلاة التراويح من