فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 203
٢٠٣ جلیل القدر صحابہؓ کا یہی مسلک تھا کہ وہ بعد میں دوبارہ وتر پڑھنے کو ناپسند کرتے تھے۔ہاں حضرت ابن عمریضہ اور چند ایک دوسرے علماء کی رائے یہ ہے کہ پچھلی رات نوافل پڑھنے کے بعد دوبارہ وتر کی نماز پڑھنا مستحسن ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ پچھلی رات اُٹھ کر پہلے صرف ایک رکعت پڑھے۔یہ رکعت رات کے پہلے حصہ میں پڑھی ہوئی وتر کی ایک رکعت کے ساتھ مل کر دو رکعت نقل یعنی دوگانہ بن جائے گی اس کے بعد اور نوافل پڑھے اور پھر آخر میں دو رکعت کے ساتھ ایک مزید رکعت پڑھ کر اُسے وتر بنائے۔چنانچہ ابن عمر سے روایت ہے :- انهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ قَالَ أَمَّا رَنَا فَلَوْ أَوْ تَرْتُ قَبْلَ أَنْ أنَامَ ثُمَّ اَرَدْتُ اَنْ اُصَلَى بِاللَّيْلِ شَفَعْتُ بِوَاحِدَةٍ مَا مَضَى مِن وِتْرِى ثُمَّ صَلَّيْتُ مَثْنى مَثْنَى فَإِذَا قَضَيْتُ صَلَاتِي اَوْ تَرَتُ بواحدَةٍ لِاَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَن يُجْعَلَ آخِرُ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوِتْرَه کہ اگر میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں اور پھر رات کے آخری حصہ میں تہجد کے لئے اُٹھوں تو پہلے میں ایک رکعت پڑھتا ہوں اور اس طرح رات کے پہلے حصہ کے وتر کو شفع یعنی دوگانہ بنا لیتا ہوں۔پھر دو دو رکعت کر کے نفل پڑھتا رہتا ہوں اور آخر میں ایک رکعت وتر پڑھتا ہوں۔اسی طرح حضرت علی نہ کی روایت ہے :- قَالَ الوِتْرُ ثَلَاثَهُ انْوَاعِ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُوْتِرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ اَوْتَرَ قیانِ اسْتَيْقَظَ نَشَاءَ أَنْ يَشْفَعَهَا بِرَكْنَةِ وَيُصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ يُوتِرَ وَإِن شَاءَ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يُصْبِحَ وَإِنْ شَاءَ آخَرَ اللَّيْلِ یعنی و تریپر ھنے کی تین صورتیں ہیں۔اول یہ کہ رات کے پہلے حصہ میں ہی وتر پڑھ لے اور پھر بعد میں تہجد کے لئے اُٹھے تو صرف نماز تہجد ہی پڑھے اور دوبارہ وتر نہ پڑھے۔دوئم یہ کہ سو کر اٹھنے کے بعد ایک رکعت پڑھ کر پہلے وتر کو شفع یعنی جفت بنا ہے۔پھر دو دو رکعت تہجد پڑھتا رہے اور آخر میں پھر ایک رکعت وتر کی پڑھ لے۔سوئم۔یہ کہ وتر کی نماز سونے سے پہلے نہ پڑھے بلکہ تہجد کے بعد آخر میں پڑھے۔جو بزرگ رات کے آخری حصہ میں دوبارہ وتر پڑھنے کو پسند نہیں کرتے ان کے دلائل یہ ہیں :۔ے : مسند احمد یا نیل الاوطار من باب لا وتران في ليلة : : مسند امام شافی بحوالہ نیل الاوطار باب لا و توان في ليلة هي :