فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 202 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 202

٢٠٢ وتر اور قرأة سور عَن أبي ابْنِ كَعْتُ رَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِسبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَفِي الرَّيْعَةِ الثَّانِيَةِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ۔وَفي الثَّالِثَةِ بِقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي الْآخِرَةِ - یعنی حضرت ابی بن کعب کا بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سورہ مسلم اسم ربک الاعلی پڑھتے۔دوسری میں سورہ کافرون اور تیسری میں سورہ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ سلام صرف آخر میں تینوں رکعت پڑھ کر پھیر تھے۔والے۔وتر نماز کی آخری رکعت میں دعائے قنوت پڑھنا اگر بھول جائے تو سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟ جواہے :۔سجدہ سہو واجب نہیں۔کیونکہ دنروں میں بالالتزام دعاء قنوت پڑھنا ہمارے نزدیک اجب اور ضروری نہیں ہے بلکہ مستحب اور باعث ثواب ہے۔وتروں کے بعد نفل سوال :۔وتر ادا کرنے کے بعد نوافل پڑھے جا سکتے ہیں یا نہیں اور اگر نوافل پڑھے جا سکتے ہیں تو کیا دوبارہ وتر پڑھنے ضروری ہیں ؟ جواب :۔عشاء کی نمازہ اور وتر پڑھنے کے بعد طلوع فجر سے پہلے نوافل پڑھے جا سکتے ہیں اس میں کوئی شرعی روک نہیں۔تاہم بہتر یہی ہے کہ نوافل وتر کی نماز سے پہلے ادا کئے جائیں اور رات کی نقل نمازہ کا اختتام و تم پر کیا جائے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :- اِجْعَلُوا آخِرَ صَلوتِكُمْ مِنَ اللَّيْلِ وَثرًا " له کہ رات کی آخری نماز وتر ہونی چاہیئے لیکن اگر کوئی عشاء کی نمازہ کے ساتھ ہی وتر پڑھ لے اور پھر تجت کے وقت اُٹھ کر نوافل پڑھے تو ضروری نہیں کہ وہ دوبارہ وتر بھی پڑھے۔حضرت ابو بکر اور کئی نسائی کتاب قيام الليل باب القرأة في الوتر ص : -:: مسلم باب صلوة الليل مثنى مثنى والوتر من آخر الليل مثنت :