فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 201 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 201

٢٠١ - μ قَبْلَ النَّوْمِ۔- عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَانَ ان لا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيَوْتِرَ أَوَّلَهُ وَمَنْ أَنْ يَقُومَ آخَرَهُ فَلْيُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ » له اس لحاظ سے وتر کی نماز کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوع فجر تک ہے۔حدیث میں ہے :- ٣ - عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللهَ أَمَرَكُمْ بِصَلُوةٍ هِيَ خَيْرُ تَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الوِ تَرجَعَلَهُ اللهُ نَكُمْ فِيْمَا بَيْنَ صَلوةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يُطْلِعَ الْفَجْرُ - له جمع نماز کی صورت میں اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بالتصریح یہ ثابت نہیں کہ حضور مغرب کے ساتھ عشاء کی نماز کو جمع کرنے کے معا بعد وتر کی نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور ایسی تصریح آبھی نہیں سکتی کیونکہ حضور علیہ السلام کو بالعموم وتر کی نماز تہجد کے ساتھ آخری حصہ رات میں ادا فرمایا کرتے تھے۔تاہم اصول عامہ کے مطابق اگر کوئی شخص چاہے تو جمع نمازہ کے معا بعد وتر کی نمازہ پڑھ سکتا ہے اور ہماری جماعت کا عام عمل اسی کے مطابق ہے۔عام طور پر جمع نماز کے بعد سنتیں اور نوافل نہیں پڑھے جاتے۔البتہ وتر ضروری ہیں کیونکہ وتر کے متعلق سنتوں سے زیادہ تاکید آئی ہے۔اسی لئے علماء نے وتر کو واجب قرار دیا ہے جو سنت سے اُوپر کا درجہ ہے۔سفر میں وتر سوال : سفر میں وتر کی کتنی رکعت پڑھنی چاہئیں ؟ جواب :- (از حضرت خلیفہ بہیج اول سفر و حضر میں وتر کے واسطے تین رکعت ضروری ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سفر میں بھی و ترکی تین رکعت بعد نماز عشاء پہلی رات کو ضرور پڑھا کرتے ہیں۔ہے ه بخاری باب ساعات الوتر الخ م : مسلم باب من خاف ان لا يقوم من آخر الليل الا من ٢٩ : ۳ : ترمذی ابواب الوترصت باب فضل الوتر : --- بدر ۱۲ جنوری شاه :