فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 200
حضرت خلیفہ اول کا ارشاد بھی یہی ہے۔اے سوال :۔اکیلا وتر پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے ؟ جو اسے :۔ہم نے اکیپ لار وتر پڑھنے کے متعلق حکم کہیں نہیں دیکھا۔ہاں دو رکعت کے بعد خواہ سلام پھیر کر دوسری رکعت پڑھ لے خواہ تینوں رکعت ایک ہی نیت سے پڑھ لے۔سے حدیث کی تصریح یہ ہے :- مَنْ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلّى فِيْمَـ بَيْنَ أَن يَفْرُغُ مِنْ صَلوةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَه وَ سلم بَيْنَ كُلِّ رَكَعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِـ وَاحِدَةٍ - ٥٣ وتر پڑھنے کا وقت سوال: - و ترکس وقت پڑھنے چاہئیں؟ جواب : راز حضرت خلیفہ اول و تر پہلی رات کو پڑھ لینا بہتر ہے۔پچھلی رات بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔بہت ہے کہ پہلی رات پڑھ لئے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی طریق عمل ہے کہ آپ پہلی رات کو پڑھ لیا کرتے تھے۔سے سوال :۔وتر کی نماز عشاء کا جزو ہے یا نما نہ تہجد کا۔اگر مغرب اور عشاء جمع ہوں تو وتر پڑھنے کیوں ضروری سمجھے جاتے ہیں جبکہ جمع کی صورت میں فرض کے علاوہ کوئی اور نمازہ دسنتیں وغیرہ نہیں پڑھی جاتی ؟ جواب : اصل میں تو وتر نما نہ تہجد کا جزو ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی آخری تین رکعتوں کو وتر کی صورت میں ادا فرمایا کرتے تھے لیکن چونکہ وتر نماز کی الگ بھی تاکید آئی ہے اور ہر ایک شخص نماز تہجد کے لئے نہیں اُٹھتا۔یا کسی عوارض کی وجہ سے اٹھ نہیں سکتا۔اسلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے کہ ایسا شخص نماز عشاء کے بعد سونے سے پہلے وتر کی نمازہ پڑھ لیا کرے۔حدیث درج ذیل ہے : ا قَالَ اَبُوْ هُرَيْرَةَ اَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوِتْرِ - ه بدر ۱۲ جنوری شاه : PA : بدر ۲ اپریل ۱۹۰۳ : : - مسلم باب صلوۃ اليل وعدد ركعات النبی صل اللہ علی وم قلت له : - بدر ۱۳ جنوری نشده ، نقادی مسیح موعود منت :