فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 179
149 کے بعد اور تعویذ سے پہلے امام سانت تکبیریں بلند آواز سے کہے اور مقتدی آہستہ آوازہ سے یہ تکبیرات کہیں۔امام اور مقتدی دونوں تکبیرات کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور کھلے چھوڑ دیں لیے رات کے بعد امام اعوذ اور بسم اللہ پڑھے۔اس کے بعد سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کا کوئی حصہ بالجہر پڑھ کر پہلی رکعت مکمل کرے۔پھر دوسری رکعت کے لئے اٹھتے ہی پانچ تکبیریں پہلی تکبیرات کی طرح ہے اور پھر یہ رکعت مکمل ہونے پر تشہد۔درود شریف اور مسنون دعاؤں کے بعد سلام پھیر ہے۔اس کے بعد امام خطبہ پڑھے۔جمعہ کی طرح عید کے بھی دو خطبے ہوتے ہیں۔اگر عید کی نماز پہلے دن زوال سے پہلے نہ پڑھی جا سکے تو عید الفطر دوسرے دن اور عید الاضحیہ تیسر سے دن تک زوال سے پہلے پڑھی جاسکتی ہے کیے دونوں عیدوں کی نماز ایک جیسی ہے فرق صرف یہ ہے کہ بڑی عید کی نماز ختم ہونے کے بعد امام اور مقتدی کم از کم تین بار بلند آواز سے تکبیرات کہیں۔اسی طرح نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرہویں کے کی عصر تک با جماعت فرض نماز کے بعد بآواز بلند رہتی تکبیرات کہی جائیں۔یہ تکبیرات مندرجہ ذیل ہیں:۔الله اكبر - اللَّهُ أَكْبَرُ - لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔اور اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے لئے ہی سب تعریفیں ہیں۔نے روایت ہے کہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كان يكبر في العيدين في الاولى سبعا قبل القراءة وفي الآخرة خَمْسًا قبل القراءة یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔(ترندی منش ، ابن ماجه باب كم يكبر الامام فى صلاة العيدين صلا : - : ابن ماجہ باب ماجاء في الخطبة في العيدين ما۔۔ه : - ابو داؤد کتاب الصلاة باب اذالم يخرج الامام للعيد من يومه - المص لله : - الف ، عن على أنه كان يكبر بعد صلاة الفجر يوم عرفة الى صلوة العصر من آخر ايام التشريق ويكبر بعد العصر - رواه ابن ابي شيبة في مصنفه۔واخرجه الحاكم في المستللك م۲۹۹ ، نصرالي ايه ۳۳ ب - أيام التشريق - هي العادى عشر والثاني عشر والثالث عشر من ذي الحجه خانه شرح وقایه ۲۴۸