فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 178
14A جاؤ اب اپنے کاروبار کرو۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت میں جمعہ کی نمازہ اور خطبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ بادشاہ مسلمان نہیں ہے۔تعجب ہے کہ خود بڑے امن کے ساتھ خطیہ اور نماز جمعہ پڑھتے بھی ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ نہیں ہو سکتا۔پھر کہتے ہیں کہ احتمال ہے کہ جمعہ ہوا یا نہیں۔اس واسطے ظہر کی نمازہ بھی پڑھتے ہیں اور اس کا نام احتیاطی رکھا ہے ایسے لوگ ایک شک میں گرفتار ہیں ان کا جمعہ بھی شک میں گیا اور ظہر بھی شک میں گئی نہ یہ حاصل ہوا نہ وہ - اصل بات یہ ہے کہ نماز جمعہ پڑھو اور احتیاطی کی کوئی ضرورت نہیں لیے نماز عیدین ماہ رمضان گزرنے پر یکم شوال کو افطار کرنے اور روزوں کی برکات حاصل کر نے کی توفیق پانے کی خوشی میں عید الفطر اور دسویں ذوالحجہ کو حج کی برکات بیشتر آنے کی خوشی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادمیں عید الاضحیہ منائی جاتی ہے۔نماز عید کا اجتماع ایک رنگ میں مسلمانوں کی ثقافت اور دینی عظمت کا مظہر ہوتا ہے اس لئے اس میں مرد عورت۔بچے سبھی شامل ہوتے ہیں سیہ عید کے دن کہنا کہ عمدہ لباس پہنا جائے خوشبو لگائی جائے۔اچھا کھانا تیار کیا جائے۔عید الفطر ہو تو عید کی نماز کے لئے جانے سے پیشتر مساکین اور غرباء کے لئے فطرانہ ادا کیا جائے خود بھی کچھ کھا پی کہ عید کی نمازہ کے لئے جائے لیکن اگر قربانیوں کی عید ہو تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد واپس آکر کھانا زیادہ بہتر ہے ہی۔اسی طرح عید کی نماز کے لئے آنے اور جانے کا راستہ مختلف ہو تو یہ منتخب ہے اور زیادہ ثواب کا موجب ہے شیے دونوں عیدوں پر عید کی دو رکعت نماز کسی کھلے میدان یا عید گاہ میں زوال سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔حسب ضرورت عید کی نمازہ جامع مسجد میں بھی ادا کی جا سکتی ہے۔عید کی نماز با جماعت ہی پڑھی جا سکتی ہے۔اکیلے جائز نہیں۔نماز عید کی پہلی رکعت میں ثناء الحکم ار اگست شاه - فتادی مسیح موعود ص : ه: ترندی کتاب الصلواة باب خروج النساء في العيدين من : : ابن ماجہ باب جا الاغتسال في العيدين ٩٣٥ ے :- ترمذی باب فی الا كل يوم الفطر قبل الخروج ابواب العيدين صلات: ٹ:۔ترمذی ابواب العیدین باب في خروج النبی صلی اللہ علیہ وسلم الى العيد في طريق الخصات :