فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 180 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 180

١٨٠ نوٹے :۔عید الاضحیہ کی نماز کے لئے آتے ہوئے اور واپس جاتے ہوئے بھی یہ تکبیرات بلند آواز سے کہنا مسنون ہے لیے نماز عید سوال : کیا عید کی نماز ضروری ہے ؟ جوانے :۔عید کی نمازہ سنت مؤکدہ ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عید کے لئے عام لوگوں کے علاوہ عورتیں اور بچے بھی آئیں۔البتہ حائضہ عورتیں نماز میں شامل نہ ہوں وہ الگ بیٹھ کر تکبیر و تحمید میں مشغول رہیں۔عید کی نماز با جماعت ہی ہو سکتی ہے۔یہ اکیلئے جائز نہیں۔تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھ کر پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہی جائیں۔امام بلند آواز سے یہ تکبیریں کہے اور مقتدی آہستہ آہستہ ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ کانوں تک بلند کر کے سیدھے چھوڑ دیئے جائیں باندھے نہ جائیں جب امام قرأت شروع کر لے تو پھر ہاتھ باندھ لئے جائیں۔دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے اسی طرح پانچ تکبیریں کہی جائیں۔اگر امام یہ تکبیریں نہ کہے اور بھول جائے تو اس غلطی کے تدارک کے لئے سجدہ سہو کرنا ضروری ہوگا۔عید کی نماز کا وقت صبح اندازہ آنیزه برابر سورج نکل آنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور دوپہر یعنی زوال سے قبل تک رہتا ہے۔تاہم جلد نماز پڑھنا زیادہ ثواب کا موجب ہے۔سوال : تکبیرات عیدین کتنی ہیں۔جماعتی مسلک کیا ہے ؟ جواب : جماعت احمدیہ کا مسلک جو تواتر علی کی حیثیت رکھتا ہے۔یہی ہے کہ پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قرائت سے پہلے کہی جادیں۔ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ کانوں تک اُٹھائے جائیں اور پھر کھلے چھوڑ دیئے جائیں۔ساتویں یا پانچویں تکبیر کے بعد سینہ پر ہا تھ باندھے جائیں اس کے بعد تعوذ اور علیم اللہ کے ساتھ قرأۃ شروع کی جائے۔اس بارہ میں صحابہ کرام کا عمل اور ان کے اقوال سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عمریضہ کا طریق عمل یہ تھا کہ پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قرائت سے پہلے کہا کرتے تھے۔حضرت عبداللہ بن مسعود پہلی رکعت میں تین تکبیریں قرأة سے پہلے اور دوسری رکعت میں : عن ابن عمر انه كان اذعد اليوم الفطر ويوم الاضحى يجهر بالتكبير حتى يأتى المصلى و دار قطني منشا ، 1 بیهقی :