فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 177 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 177

144 اگر عید اور جمعہ اکٹھے ہو جائیں تو یہ جائز ہے کہ جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھ لی جائے اور یہ بھی جائز ہے کہ عید اور جمعہ دونوں پڑھ لئے جائیں کیونکہ ہماری شریعت نے ہر امر میں سہولت کو مد نظر رکھا ہے۔چونکہ عام نمازیں اپنے اپنے محلوں میں ہوتی ہیں لیکن جمعہ کی نمازہ میں سارے شہر کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔اسی طرح عید کی نمازہ میں بھی سب لئے گ اکٹھے ہوتے ہیں۔اور ایک دن میں دو ایسے اجتماع جن میں دُور دُور سے لوگ آکر شامل ہوں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔اس لئے شریعت نے اجازت دی ہے کہ اگر لوگ برداشت نہ کر سکیں تو جمعہ کی بجائے ظہر پڑھ لیں۔بہر حال اصل غرض شریعت کی یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ عرصہ کیلئے اکٹھے بیٹھ سکیں کیونکہ اسلام صرف دل کی صفائی کے لئے نہیں آیا۔اسلام قومی ترقی اور معاشرت کے ارتقاء کے لئے بھی آیا ہے اور قوم اور معاشرت کا پتہ بغیر اجتماع میں شامل ہونے کے نہیں لگ سکتا ہے۔ایسا بھی جائز ہے کہ اگر جمعہ اور عید ایک روز جمع ہو جائیں تو عید کی نماز کے بعد نہ جمعہ پڑھا جائے اور نہ ظہر بلکہ عصر کے وقت میں عصر کی نماز پڑھی جائے۔چنانچہ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک بار جمعہ اور عید الفطر دونوں ایک دن میں اکٹھے ہو گئے۔حضرت عبداللہ بن نہ بریرہ نے فرمایا۔ایک دن میں دو عیدیں جمع ہوگئی ہیں ان کو اکٹھا کر کے پڑھا جائے گا۔چنانچہ آپ نے دونوں کے لئے دو رکعتیں دوپہر سے پہلے پڑھیں۔اس کے بعد عصر تک کوئی نماز نہ پڑھی۔یعنی اس دن صرف نماز عصر ادا کی۔۲ حضرت خلیفہ المسیح الثالث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بار اس روایت کے مطابق عمل کیا اور عید کی نمازہ کے بعد عصر کی نمازہ ادا فرمائی۔روایت کے الفاظ یہ ہیں :- قال عطاء اجتمع يوم جمعة ويوم فطر على عهد ابن الزبير فقال عیدان اجتمعا في يوم واحد فجمعهما جميعا فصلا هما ركعتين بكرة لم يزد عليهما حتى صلى العصر جمعہ کے بعد احتیاطی نماز سوال :۔بعض لوگ جمعہ کے بعد احتیاطی پڑھتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ جوا ہے :۔قرآن شریف کے حکم سے جمعہ کی نماز سب مسلمانوں پر فرض ہے جب جمعہ کی نماز پڑھ لی تو حکم ہے کہ - ۱۵۳ ه المصلح ٢٠ اكتوبر ١٩٤ له - ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب اذا وافق يوم الجمعة ويوم العيد ما +