فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 176 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 176

144 سے محروم ہے اور اپنی اپنے لئے خسران مبین کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔تاہم چونکہ وہ امام کے ساتھ شامل ہو گیا ہے اس لئے امام کی نیت کے مطابق اُسے دو رکعت ہی پڑھنی چاہئیں۔نہ کہ ظہر کی چار رکعت نیه جمعہ اور عید کا اجتماع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا۔جب جمعہ اور عید جمع ہو جائیں تو اجازت ہے کہ جو لوگ چاہیں جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز ادا کرلیں مگر فرمایا ہم توجہ ہی پڑھیں گے بلیک کل بھی میرے پاس ایک مفتی صاحب کا فتویٰ آیا تھا کہ بعض دوست کہتے ہیں کہ اگر جمعہ کی بجائے ظہر کی نمازہ ہو جائے تو قربانیوں میں ہم کو سہولت ہو جائے گی اور انہوں نے اس قسم کی حدیثیں لکھ کر ساتھ ہی بھیجوا دی تھیں میں نے ان کو یہی جواب دیا تھا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں۔جمعہ اور عید جب جمع ہو جائیں تو جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھنے کی اجازت ہے مگر ہم تو وہی کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔اگر کوئی جمعہ کی بجائے ظہر پڑھنا چاہے تو اسے اجازت ہے مگر ہم تو جمعہ ہی پڑھیں گے۔میں بھی یہی کہتا ہوں کہ جو شخص چاہے آج جمعہ کی بجائے ظہر پڑھ لے مگر جو ظہر پڑھنا چاہتا ہے وہ مجھے کیوں مجبور کرتا ہے کہ میں بھی جمعہ نہ پڑھوں۔لیکں تو وہی کروں گا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔کہ جمعہ ہی پڑھیں گے۔ہمارا رب کیسا سخی ہے کہ اس نے ہمیں دو دو عیدیں دیں۔یعنی جمعہ بھی آیا اور عیدالاضحی بھی آئی۔اور اس طرح دو عیدیں خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے جمع کر دیں۔اب جس کو دو دو بچپڑی ہوئی چپاتیاں میں وہ ایک کو رد کیوں کرے گا۔وہ تو دونوں سے گا۔سوائے اس کے کہ اسے کوئی خاص مجبوری پیش آجائے اور اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے کہ اگر کوئی مجبور ہو کہ ظہر کی نماز پڑھ لے جمعہ نہ پڑھے تو دوسرے کو نہیں چاہیے کہ اس پر طعن کرے اور اگر بعض لوگ ایسے ہوں جنہیں دونوں نمازیں ادا کرنے کی توفیق ہو تو دوسرے کو نہیں چاہیے کہ ان پر اعتراض کرے اور کہے کہ انہوں نے رخصت سے فائدہ نہ اٹھایا " سے له : - الحنفية قالوا من ادرك الامام فى اى جزأ من صلاته نقد ادرك الجمعة ولو فى تشهد مسجود السهو كتاب الفقه على المذاهب الاربعه م : له : " قال اجتمع عيدان في يومكم هذا فمن شاء اجزاها من الجمعة وانا مجتمعون انشاء الله ابن ماجہ باب اذا اجتمع العبدان في يو ۳ - الفضل ۱۵ مارچ ۶۱۹۳۸ ، ۱۵ر فروری ۹۳۹له با