فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 8 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 8

یعنی میں نے جن و انس کو صرف عبادت کے لئے پیدا کیا ہے یعنی اس لئے کہ تا وہ میرے ظہور کا موجب اور میری صفات کا مظہر نہیں۔اس آیہ کریمہ کی تفسیر وہ حدیث قدسی کرتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔كُنتُ كثرًا مَغْفِيًا فاردت أن أغرَن۔له یعنی میں ایک مخفی خندانہ تھا پھر میں نے ارادہ کیا کہ میں پہچانا جاؤں اور دُنیا میں جانا جاؤں اس لئے میں نے آدم کو پیدا کیا۔اس کی مزید وضاحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں ہے۔"إِنَّ اللهَ خَلَقَ أَدَمَ عَلَى صُورَتِهِ لَه یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ان ارشادات کا یہی مطلب ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد ذات باری کا ظہور اتم ہے کیونکہ وہ صفات الہیہ کا مظہر بن سکتا ہے۔اور اس کی قدرت کے اسرار پر سے پردہ اٹھانے کی ذہنی استعداد لے کر پیدا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے که استنباط، ایجادات اور نئے نئے انکشافات کی جو قابلیتیں انسان کو ودیعت کی گئی ہیں وہ کسی دوسری مخلوق کو عطا نہیں ہوئیں۔اسی مفہوم کی عمومیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیدنا حضرت سیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں :- خدا تعالی کی ذات میں اپنی عظمت، اپنی خدائی، اپنی کبریائی ، اپنا جلال ، اپنی بادشاہی ظاہر کرنیکا ایک تقاضا پایا جاتا ہے اور سزا و جزا اور مطالبه اطاعت و عبودیت و پرستش اسی تقاضا کی فرع ہے اسی اظہار ربوبیت و خُدائی کی غرض سے یہ انواع و اقسام کا عالم ارنسی پیدا کر رکھا ہے ورنہ اگر اس کی ذات میں یہ جوش اظہار نہ پایا جاتا تو پھر وہ کیوں پیدا کرنے کی طرف ناحق متوجہ ہوتا اور کس نے اس کے سر پر بوجھ ڈالا تھا کہ ضرور یہ عالم پیدا کر رہے اور ارواح کو اجسام کے ساتھ تعلق دے کر اس مسافرخانہ کو جو دنیا کے نام سے موسوم ہے اپنی عجائب قدرتوں کی جگہ بنا ہے۔آخر اس میں کوئی قوت اقتضاء تھی جو اس بنا ڈالنے کی متحرک ہوئی اسی کی طرف اس کے پاک کلام میں جو قرآن شریف ہے اشارات پائے جاتے ہیں۔جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالٰی نے کل عالم کو اس غرض سے پیدا کیا کہ تا وہ اپنی خالقیت کی صفت سے شناخت کیا جائے اور پھر پیدا کرنے کے بعد اپنی مخلوقات پسر حم و کرم کی بارشیں کیں تادہ رحیمی و کریمی کی صفت سے شناخت کیا جائے ایسا ہی اس نے سزا و جزا دی تا اس کا منتظم اور نظم مية - مزيل النحفاء والا لباس جلد ۲ ملا مصنفہ اسمعیل بن محمد العجلانی سے بخاری کتاب استان باید الایمانداری والالباس - شه به نیست