فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 7
عبادت کی بنیادی غرض و نسال الہی ہے۔اسی سے اُسے خُدا شناسی کا نغ ملتا ہے اور خُدا سے اس کے تعلق کا اظہار ہوتا ہے اس کی روحانیت ترقی کرتی ہے۔اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے یہاں تک کہ انسان حقیقی معنوں میں عبد یعنی خدا نما وجود بن جا" ہے جو روحانیت کا ایک اعلیٰ مقام ہے۔پس عبادت کوئی چٹی نہیں نہ اس میں خوشامد اور چاپلوسی والی کوئی بات ہے اور نہ لالچ و حرص کا کوئی تحریکی اندانہ عبادت سے اللہ ذوالجلال کا کوئی ذاتی فائدہ وابستہ نہیں اور نہ ہی اسے اس کی ضرورت ہے۔اگر کوئی اس کی عبادت نہ کر سے تب بھی اس کی خدائی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔جس طرح انسان کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں۔اسی طرح عبادت کے تقاضا کو اس کی فطرت میں رکھ دینے اور اُس کے لئے اس کی راہنمائی کرنے میں بھی اس کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں یہ محض اس کا فضل و کرم اور اس کی ربوبیت کا فیضان ہے کہ اُس نے اپنے بندوی کو پیدا کیا اور پھر ان کی راہنمائی فرمائی اور عبادت کے ذریعہ اپنے آپ کو مکمل کرنے کی راہیں ان کیلئے کھول دیں۔غرض عبادت میں بندہ کا اپنا فائدہ اور اُس کی اپنی بھلائی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :- وَ مَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَلَى بِنَفْسِهِ اله یعنی جو شخص گناہوں میں ملوث ہونے سے بچتا ہے اور پاکیزگی اختیار کر تا ہے وہ اپنا ہی فائدہ کرتا ہے۔عبادت کا عمو نے فلسفہ جیسا کہ اوپر اشارہ آچکا ہے کہ انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے، تاکہ اس کے ذریعہ خالق دو جہاں کے وجود کا ظہور اور اس کی صفات کا نمود ہو۔اللہ اور فطرت اور بہانہ ہائے قدرت خاش ہو جائیں کھل کر سامنے آجائیں یعنی انسان خدا نما وجود ہے اور اس طرح اس کا مظہر بن کر تخلیق کائنات کی غرض و غایت کو پورا کرے اسی لئے انسان کو عبد کہا گیا ہے کیونکہ عبادت کے ایک معنے کسی کے نقش کو قبول کرنے کے ہیں اور انسان کو ایسے ملکوتی قوی اور اعلیٰ اقدار ودیعت ہوئے ہیں جن کی مدد سے وہ صفات الہیہ کا پورا نقشہ پیش کر سکتا ہے اور ان کو اپنے اندر پیدا کر نے کی پوری پوری اہلیت رکھتا ہے۔شد اللہ تعالیٰ قرآن کریم نہیں فرماتا ہے : وما خلقت الجن والانس إلا ليعبدون فاطر: ۱۹ که عربات الصادقين طلاء ملفوظات جلد ششم طه تفسیر کبیر جلد اول جز اول با لغات القرآن :- ذاریات به