فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 9
ہونا ایسا کیا جائے۔۔۔۔۔۔غرض وہ اپنے عجیب کاموں سے یہی مدعا رکھتا ہے کہ نادہ پہچانا جائے اور شناخت کیا جائے سو جبکہ دنیا کے پیدا کرنے اور جزا و سزا وغیرہ سے اصلی غرض معرفت الہی ہے جو لب لباب پرستش و عبادت ہے تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود تقاضا فرماتا ہے کہ تا اس کی معرفت جس کی حقیقت کا ملہ پرستش و عبادت کے ذریعہ سے گھلتی ہے۔اس کے بندوں سے حاصل ہو جائے جیسا کہ ایک خوبصورت اپنے کمال خوبصورتی کی وجہ سے اپنے حسن کو ظاہر کرنا چاہتا ہے سو خدا تعالیٰ جس پر جس حقیقی کے کمالات ختم ہیں وہ بھی اپنے ذاتی جوش سے چاہتا ہے کہ وہ کمالات لوگوں پر کھل جائیں لے عبادت کے ایک اور معنے کسی کا بن جانے اس کے سامنے بچھ جانے اس میں فنا ہو جانے اس کے حضور تذکل اختیار کرنے اور اس کا کہنا ماننے کے ہیں اور انسان بھی اپنے وجود کو ایک بالا راستی کے سامنے مٹا دینے اس کی محبت میں فنا ہو جانے اور اس کا ہی بن جانے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے اس لئے اُسے عبد کہا گیا ہے۔پس ان معنوں کے لحاظ سے عبادت صرف ایسی کا مل ہستی ہی کی ہو سکتی ہے جو اپنے کمالات میں منفرد ہو اور اس کا کوئی شریک نہ ہو اور جس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا انسان ہر حال میں پابند ہو ایسی ذات صرف اللہ تعالٰی کی ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی نہیں جس کی حقیقی معنوں میں فرمانبرداری کی جا سکے اور جس کی ذات کو چین کہ انسان اُسی کا ہو جائے اور اُسی کی پناہ کے نیچے اپنے آپ کو لے آوے۔حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ کا عبد کہلانے کی ایک راہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے جذبات شکر کا اظہار کرے اور اس کے احسانوں کا اپنی زبان سے اقرار کرے کیونکہ انسان فطرتاً اپنے محسن کا شکریہ ادا کر نے پر مجبور ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔جبلت القُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْهَا له یعنی انسان کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بننے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان گناہوں اور بدیوں سے نجات پا جائے اپنے دل کو پاک کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک لوگ ہی اس کی بارگاہ میں بار پاسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام مقررہ عبادات میں اس بات کو مد نظر رکھا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ نفس انسانی ے ا سرمه چشم آمریه ۲۱۵-۲۱۹ سے :- جامع الصغیر جلد اول ما بحوالہ بیہقی فی شعب الایمان :