فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 434

فضائل القرآن — Page 55

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ متعلق کی گئی۔پھر پہلے دن پہلی وحی میں اور پہلے وقت میں کی گئی۔قلم کے ذریعہ ہر قسم کے علوم کا اظہار ایک اور پیشگوئی اس وحی میں قرآن کے متعلق یہ کی کہ الَّذِی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ یعنی اس کتاب کے ذریعہ نہ صرف یہ ثابت ہوگا کہ تیرا رب سب سے بالا ہے اور باقی ساری ہستیاں اس کے تابع ہیں بلکہ ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوگا کہ الَّذِی عَلَمَ بِالْقَلَمِ تیرے رب نے قلم کے ساتھ علم سکھایا ہے۔یعنی آئندہ تحریر کا عام رواج ہو جائے گا۔وہ مکہ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت صرف سات آدمی پڑھے لکھے تھے۔جہاں کے بڑے بڑے لوگ لکھنا پڑھنا ہتک سمجھتے تھے۔شعراء اپنے شعر صرف زبانی یاد کراتے تھے۔اور اگر انہیں کہا جائے کہ اشعار لکھوا دیئے جائیں تو اسے اپنی ہتک سمجھتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے کہ لوگ ان کے اشعار زبانی یا درکھتے ہیں۔جب قرآن نازل ہوا تو ان میں ایک عظیم الشان تغیر آ گیا۔55 یہاں تک کہ صحابہ میں کوئی ان پڑھ نہ ملتا تھا۔سو میں سے سو ہی پڑھے لکھے تھے۔تو فرمایا الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ اس کتاب کے ذریعہ دوسرا عظیم الشان تغیر یہ ہوگا کہ لوگوں کی توجہ علوم کی طرف پھیر دی جائے گی چنانچہ آپ کی بعثت کے معا بعد لکھنے کا رواج ترقی پذیر ہوا۔صحابہ نے لکھنا پڑھنا شروع کیا۔مدینہ میں آپ نے سب بچوں کو تعلیم دلوائی یہاں تک کہ عرب کا بچہ بچہ پڑھ لکھ گیا بلکہ اسلام کے ذریعہ سے یونانی کتب بھی محفوظ ہوگئیں۔غرض قلم کا استعمال اس کثرت سے ہوا کہ اس کی مثال پہلے زمانہ میں نہیں ملتی۔یہاں سوال ہو سکتا ہے کہ اس بات کا تعلق قرآن کریم کی فضیلت سے کیا ہے؟ سو یا درکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کو کامل اور افضل ثابت کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے مخاطب عالم ہوں جاہل نہ ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کریم کے نازل ہونے کے بعد علم کا زمانہ آجائے گا۔لوگ مختلف علوم کے ماہر ہونگے۔مگر باوجود اس کے یہ کتاب دنیا میں قائم رہے گی اور پڑھی جائے گی۔اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکے گا۔غرض اس پیشگوئی کے بعد کیا عرب اور کیا دوسرے ممالک ان میں علم کا اتنا رواج ہوا کہ اس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں مل سکتی۔