فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 434

فضائل القرآن — Page 54

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 54 اور قرآن کریم نے ایسے ہی وقت میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ شرک مٹ جائے گا اور خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے گی۔اُس وقت جب کہ قرآن نے توحید پیش کی مکہ والوں کی جو حالت تھی اس کا ذکر قرآن کریم اس طرح کرتا ہے کہ انہوں نے کہا جَعَلَ الْأَلِهَةَ الهَا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْى عُجَاب - عليم عجیب بات ہے کہ اس نے سارے معبودوں کو کوٹ کاٹ کر ایک بنا دیا ہے ان لوگوں کو یہ خیال ہی نہیں آتا تھا کہ وہ الہ ہیں ہی نہیں۔وہ سمجھتے تھے کہ سب معبودوں کو اس نے اکٹھا کر کے ایک بنادیا ہے۔سورۃ ص میں ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔مگر معا ان کی حالت بدلنے لگی۔اور اس کے بعد ان میں اس قدر تغیر پیدا ہو گیا کہ انہوں نے اسلامی توحید کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دیئے اور یہ کہنے لگے کہ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِبُونَا إِلَى اللهِ زُلفی کے یعنی یہ یونہی کہتا ہے کہ ہم مشرک ہیں ہم تو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے بتوں کو مانتے ہیں۔گویا وہ معذرت کرتے ہیں کہ ہم کب کہتے ہیں کہ بت خدا ہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ان کے ذریعہ خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے۔یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو اُن میں پیدا ہوا اور کس طرح خدا تعالیٰ کا اکرم ہونا ظاہر ہو گیا۔غرض فرماتا ہے۔اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الأكرم تو اس کتاب کو پڑھ کیونکہ اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی توحید پھیلنے لگ جائے گی۔لوگ خدا تعالیٰ کو ماننے لگ جائیں گے اور اس کا جلال دنیا میں قائم ہو جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مگر یہ تو اس وقت کا حال تھا جب قرآن کریم نازل ہوا۔اب دیکھ لو کہ کس طرح شرک کے خیالات دنیا سے مٹ رہے ہیں۔ہندوستان میں ۳۳ کروڑ بہت پوجے جاتے تھے مگر ان ہندوؤں میں سے ہی آریہ اُٹھے جو کہتے ہیں کہ ہم ہی اصل توحید کے ماننے والے ہیں۔اسی طرح مسیحیوں کو دیکھو تو وہ کہتے ہیں اصل تو حید ہم میں ہی ہے میں نے عیسائیوں کی ایسی کتابیں پڑھی ہیں جن میں وہ لکھتے ہیں کہ اسلام نے ہم پر یہ غلط اعتراض کیا ہے کہ ہم شرک میں مبتلا ہیں حالانکہ اب بھی ان میں ایسے لوگ ہیں جو حضرت مریم اور حضرت مسیح کی پرستش کرتے غرض کتنا بڑا تغیر رونما ہو گیا کہ جہاں جہاں قرآن پڑھا گیا وہاں توحید قائم ہوتی چلی گئی۔اور دنیا یہ اقرار کر نے لگ گئی کہ خدا ہی آکر ھم ہے۔یہ کتنی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو قرآن کریم کے