فضائل القرآن — Page 56
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ نئے نئے علوم کی ترویج تیسری پیشگوئی یہ کی کہ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ خدا کا نام لے کر اس کتاب کو پڑھ جو انسان کو وہ باتیں سکھانے والا ہے جنہیں اس سے پہلے وہ ہر گز نہیں جانتا تھا۔گو یہ عام بات ہے کہ جہاں تحریر کی کثرت ہوگی وہاں علوم کا رواج ہوگا۔اور لوگ نئی نئی باتیں بیان کریں گے مگر لغو تحریریں بھی ہو سکتی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اب میں انسانوں کو وہ باتیں سکھاؤں گا جو خواہ دینی ہوں یا دنیوی، دنیا اس سے پہلے نہیں جانتی تھی۔چنانچہ قرآن کریم نے ایسے علوم بتائے جو نہ تو رات میں موجود ہیں نہ انجیل میں اور نہ کسی اور کتاب میں۔پھر دوسرے علوم بھی اس کے ذریعہ سے کھلنے شروع ہوئے۔عرب میں شعروں کے قواعد علم معانی، بیان اور صرف ونحو وغیرہ کے اصول وقواعد کوئی نہ تھے۔یہ علوم صرف مسلمانوں نے رائج کئے۔عرب کے جاہل لوگوں کی ساری کائنات لوٹ مار تھی۔مگر قرآن کریم نازل ہونے کے بعد جن علوم سے وہ ہزاروں سال سے نا آشنا چلے آرہے تھے ان سے وہ آشنا ہوئے اور وہ ساری دنیا کے علوم کے حامل بن گئے۔یونانی علوم کی کتابوں کے انہوں نے ترجمے کئے اور پھر ان کے ترجمے یورپ میں گئے۔پین میں جب مسلمان پہنچے تو انہوں نے ان کتابوں کے ترجمے کئے اور پھر ان ترجموں سے یورپ نے فائدہ اُٹھایا۔غرض عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ کے بعد ایسا تغیر شروع ہوا کہ وہ باتیں جو دنیا کو پہلے معلوم نہ تھیں ساری دُنیا میں پھیل گئیں۔اور مسلمانوں نے ایسے علوم ایجاد کئے جو پہلے نہ تھے۔مثلاً علم الاخلاق، علم النفس ، سائنس کے متعلق علوم، علم قضا ان سب علوم کے متعلق نئے اصول تجویز کئے۔اسی طرح مسلمانوں نے علم روایت نکالا علم کلام ایجاد کیا علم قضا اور حکومت کے قوانین مرتب کئے۔پہلے رومن لاء جاری تھا مگر خود یوروپین مدبروں نے تسلیم کیا ہے کہ اسلامی لاء اس سے بہتر ہے۔حفظان صحت ، علم تصوف اور الجبرا کے علوم بھی مسلمانوں کے ذریعہ نکلے۔غرض ایک طرف تو قرآن نے ایسی روحانی باتیں بیان کیں جو دنیا پہلے نہ جانتی تھی اور دوسری طرف ایسے دنیوی علوم ظاہر ہوئے جن کے مقابلہ میں پہلے علوم ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں ٹھہر سکتے۔یہ تین پیشگوئیاں قرآن کریم کے الہی کتاب ہونے کے ثبوت کے لئے کافی ہیں۔56