فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 434

فضائل القرآن — Page 53

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 53 قرآن کے بینة ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ یہ کتاب خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کی شان دنیا میں قائم کردے گی۔حضرت مسیح علیہ السلام پر مخالفین نے اعتراض کیا تھا کہ اسے شیطان سکھاتا ہے اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیا شیطان اپنے خلاف آپ سکھاتا ہے۔اگر شیطان شیطان کو نکالے تو وہ اپنا ہی مخالف ہوا۔پھر اس کی بادشاہت کیونکر قائم رہے گی۔خص اسی طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ کتاب جو خدا تعالیٰ کی گمشدہ عظمت قائم کرنے کے لئے آئے اسے شیطان کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔اول تو کوئی کتاب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو یہ کہہ ہی کس طرح سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی عزت اور عظمت اس کے ذریعہ قائم ہو جائے گی۔کئی لوگ کتا میں لکھتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی کتاب دنیا کا نقشہ بدل دے گی لیکن پھر اسی کتاب پر دوسروں سے ریویو کرانے کے لئے منتیں کرتے پھرتے ہیں۔ایک دوست نے بتایا کہ ایک موی نے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ شکوہ کرتا پھرتا ہے کہ ”الفضل“ اس کی کتابوں کے خلاف کیوں نہیں لکھتا۔ایک اور مدعی نبوت نے مجھے لکھا کہ میں آپ کے پاس اپنی کتاب بھیجتا ہوں خواہ آپ اور نے اس کے خلاف ہی لکھیں لیکن لکھیں ضرور تو بیسیوں کتابیں ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں پیدا ہوتا۔پھر کیا یہ معمولی بات ہے کہ ایک ایسے علاقہ میں جہاں بت پرستی کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔وہاں کہا گیا کہ اسے ایسی حالت میں پڑھ کہ تیرے رب کی عزت اس کے ذریعہ دنیا میں قائم ہوتی جائے گی۔اس کلام کے ذریعہ تیرا رب آشرم کے طور پر ظاہر ہوگا۔اُس وقت نہ صرف عرب میں بلکہ سارے جہان میں شرک پھیلا ہوا تھا اور حالت یہ تھی کہ آخری مذہب جو عیسائیت تھا۔اس کے ماننے والے عیسائی خود لکھتے ہیں کہ اسلام اس لئے اتنی جلدی اور اس وسعت کے ساتھ پھیل گیا کہ عیسائیت میں شرک داخل ہو چکا تھا۔ہندوؤں کی کتابوں کو دیکھو تو یہی معلوم ہوگا کہ اُس وقت ہندوؤں میں بکثرت شرک پایا جاتا تھا۔زرتشتی بھی مانتے ہیں کہ اس زمانہ میں ہر طرف شرک ہی شرک تھا۔غرضیکہ تمام مذاہب والے فخر کے ساتھ کہتے تھے کہ اسلام کے پھیلنے کی یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہر مذہب میں شرک پھیل چکا تھا۔ہم کہتے ہیں یہ درست ہے