فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 434

فضائل القرآن — Page 52

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 52 پر نہ ڈالا جائے۔کیونکہ اس وقت آپ کے سامنے کوئی کتاب تو نہیں رکھی گئی تھی جسے آپ نے پڑھنا تھا بلکہ جو کچھ جبرائیل بتاتا وہ آپ کو زبانی کہنا تھا۔اور یہ آپ کہہ سکتے تھے مگر آپ نے انکسار کا اظہار کیا۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے آپ ہی کو چنا تھا۔اس لئے بار بار کہا کہ پڑھو۔آخر تیسری بار کہنے پر آپ نے پڑھا اور جو کچھ پڑھا وہ یہ تھا۔۱۳ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ کیا ہی مختصر سی عبارت اور کتنے تھوڑے الفاظ ہیں مگر ان میں وہ حقائق اور معارف بیان کئے گئے ہیں جو اور کتابوں میں ہرگز نہیں پائے جاتے۔دوسری کتابوں کو دیکھو تو وید یوں شروع ہوتے ہیں۔اگنی میئر ھے پر دوستم۔آگ ہماری آتا ہے۔بائیبل کو دیکھو تو اس میں زمین و آسمان کی پیدائش کا یوں ذکر ہے۔ابتداء میں خدا نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا۔اور زمین ویران اور سنسان تھی اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا۔اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی۔۱۴ انجیل کی ابتداء اس طرح ہے:۔ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔یہی ابتداء میں خدا کے ساتھ تھا۔" لیکن قرآن کریم اس دلیل کے ساتھ اپنی بات شروع کرتا ہے کہ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خلق۔اے محمد ! ( لین ) تم ان لوگوں کے معلم بن جاؤ اور پڑھو اس خدا کے نام کے ساتھ جس نے دنیا کو پیدا کیا۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اس نے انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ ہاں اے محمد! پڑھ کہ تیرے پڑھتے پڑھتے خدا کی عزت دنیا میں قائم ہو جائے گی۔قرآن کریم کی ایک عظیم الشان پیشگوئی 52 یہ پہلی پیشگوئی ہے جو قرآن کریم کے بینة ہونے کے ثبوت میں پیش کی گئی ہے۔فرمایا