فضائل القرآن — Page 44
44 فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ نے قرآن کریم کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ صرف قرآن ہی اپنا تھا۔باقی سب کتب میں مجھے غیریت نظر آئی۔قرآن کریم کو میں نے ایک ہندو کی نظر سے بھی دیکھا اور ایک عیسائی کی نظر سے بھی۔ایک پارسی کی نظر سے بھی اور ایک بدھ کی نظر سے بھی۔پھر کبھی میں سید بن کر اس کے پاس گیا کبھی مغل بن کر کبھی شیخ بن کر کبھی راجپوت بن کر کبھی عالم کے رنگ میں اور کبھی جاہل کے رنگ میں۔مگر ہر دفعہ اس نے یہی کہا کہ آؤ تم میرے ہوا اور میں تمہارا ہوں۔لیکن دوسری کتب کے پاس جس حالت میں بھی میں گیا۔انہوں نے مجھے دھتکارا اور اپنے پاس تک پھٹکنے نہ دیا۔علاج الامراض کے لحاظ سے فضیلت اکیسویں۔کسی چیز کو اس لحاظ سے بھی ہم فضیلت دیا کرتے ہیں کہ وہ ان بیماریوں کا علاج ہو جو ہم میں پائی جاتی ہیں۔میں نے جب دیکھا تو قرآن کریم میں مجھے یہ بھی فضیلت نظر آئی۔زائد فوائد کے لحاظ سے فضیلت بائیسویں۔ایک چیز کو دوسری پر ہم اس لئے بھی مقدم کیا کرتے ہیں کہ اس سے ہمیں زائد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ اس لحاظ سے بھی قرآن کریم دوسری کتب سے افضل ہے۔سمح نظر کی وسعت کے لحاظ سے فضیلت تمیسویں۔مذہب کی افضلیت کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ ترقیات کی امید پیدا کر کے انسان کا مطمح نظر وسیع کرے۔اپنے پیروؤں کی ہمت بڑھائے۔ان میں مایوسی اور نا امیدی نہ آنے دے اور ان کی اُمنگوں کو قائم رکھے۔میں نے دیکھا کہ اسلام اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات اور تعلق باللہ کا دروازہ ہمارے لئے کھولتا ہے اور اس طرح ہماری امید کو نہ صرف قائم رکھتا ہے بلکہ اسے وسیع کر کے ہماری ہمت کو بڑھاتا ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ انسانی ترقی اس کے مستقبل کے خواب میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔پس اس لحاظ سے بھی مجھے قرآن کریم ہی افضل نظر آیا۔