فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 434

فضائل القرآن — Page 36

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 36 کے لحاظ سے برابر ہوں تو ایک کی ظاہری خوبی بھی دوسری پر فضیلت تسلیم کی جاسکتی ہے۔جیسے دو آم ایک ہی طرح میٹھے ہوں مگر ان میں سے ایک بڑا اور دوسرا چھوٹا ہو تو بڑے کو چھوٹے پر بڑائی کی فضیلت حاصل ہوگی۔لیکن قرآن کریم کے متعلق ہمارا یہ دعوی ہے کہ یہ ساری دنیا کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے ہے۔اب اس کے بعد کوئی شرعی کتاب نہیں آسکتی۔اس لئے ہمیں ساری قوموں، سارے مذاہب اور سارے علوم کے مقابلہ میں قرآن کریم کی فضیلت ثابت کرنی ہوگی۔جو کتاب یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ سب سے آخری الہامی کتاب ہے، جیسے قرآن کہتا ہے، اس کی ذمہ داری پہلی تمام کتب سے بالا خوبیاں پیش کرنے کی ہے۔پہلی کتابوں کو منسوخ کرنے کا دعویٰ کرنے والی کتاب کا فرض صرف یہ ہے کہ وہ اتنا ثابت کر دے کہ پہلی کتابوں سے زیادہ اس میں خوبیاں پائی جاتی ہیں۔لیکن وہ کتاب جو یہ کہے کہ میرے بعد کوئی شرعی کتاب نہیں آسکتی اور میں اب ہمیشہ کے لئے مکمل کتاب ہوں اس کے لئے یہی کافی نہیں کہ وہ پہلی کتابوں سے بڑھ کر خو بیاں پیش کرے بلکہ یہ ثابت کرنا بھی اس کے لئے ضروری ہے کہ آئندہ روحانیت کے متعلق کوئی ایسی بات نہیں آسکتی جو اس میں نہ ہو۔پس وہ کتاب جو صرف یہ نہ کہے کہ میں پہلی کتب کو منسوخ کرتی ہوں بلکہ یہ بھی کہے کہ آئندہ کے لئے بھی سب الہامی کتابوں کا دروازہ بند کرتی ہوں، اس کے لئے ضروری ہے کہ اس بات کے قطعی ثبوت پیش کرے کہ آئندہ بھی کوئی ایسی کتاب نازل نہیں ہوسکتی۔پس قرآن کریم کی افضلیت ثابت کرنے کے لئے یہ معیار نہایت ضروری ہے۔ہاں علاوہ اس اصولی بحث کے تفصیلی بحث بھی کی جاسکتی ہے کہ فلاں فلاں خوبی قرآن کریم میں ہے جو اور کسی کتاب میں نہیں ہے مگر اصولی طور پر بحث کرنا بھی ضروری ہوگا۔جب ہم قرآن کریم میں خوبیوں کی کثرت ثابت کر دیں مثلاً یہ کہیں کہ فلاں فلاں خوبیاں وید، بائیبل اور ژند اَوِشتا میں بھی پائی جاتی ہیں اور قرآن میں بھی ہیں مگر یہ چار یا دس ہیں خوبیاں ایسی ہیں جو صرف قرآن میں پائی جاتی ہیں تو اس سے بھی قرآن کریم کی فضیلت ثابت ہوگی مگر اس سے قرآن کریم کا اکمل ہونا ثابت نہ ہوگا اور یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچے گی کہ آئندہ کوئی اور شرعی کتاب نہیں آسکتی۔اس طرح قرآن کریم صرف موجودہ کتب کے مقابلہ میں افضل ثابت ہو سکتا۔