فضائل القرآن — Page 37
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ تمام وجوہ کمال میں افضل کتاب غرض سب کے آخر اور سب سے افضل ہونے کا دعویٰ کرنے والی کتاب کے لئے نہ صرف یہ ضروری ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس کے اندروہ کچھ ہے جو دوسری کتب میں نہیں ہے بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ یہ بھی ثابت کرے کہ جو کچھ اس میں ہے وہ دوسری کتب میں ہو ہی نہیں سکتا۔جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے اس وقت تک صرف اچھی باتیں بتانے سے اس کی افضلیت ثابت نہیں ہو سکتی۔ہاں افضلیت چونکہ صرف اعلیٰ خوبیوں کے لحاظ سے نہیں ہوتی بلکہ وسیع خوبیوں کے لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔اس لئے خوبیوں کی وسعت اس غرض کے اثبات کے لئے پیش کی جاسکتی ہے کہ گو بعض خوبیاں کسی اور کتاب میں بھی پائی جاتی ہوں مگر خوبیوں کی وسعت کے لحاظ سے فلاں کتاب افضل ہے۔ہاں کامل افضل کتاب وہ کہلائے گی جو تمام وجوہ کمال میں افضل ثابت ہو۔اور میرا قرآن کریم کے متعلق یہی دعویٰ ہے۔جواہرات کی کان ممکن ہے کوئی کہے کہ کیا پہلے لوگوں کو قرآن کریم کے ان فضائل کا علم نہ تھا؟ سو یا درکھنا چاہیئے کہ علم تھا مگر روحانی علوم خدا تعالیٰ کے فضل سے روزانہ ترقی کرتے ہیں۔اور جب ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہمارے پاس قرآن کریم جواہرات کی ایک کان ہے جس میں سے نئے سے نئے جواہر نکلتے رہتے ہیں تو پھر کیوں ہم انہی جواہرات پر اکتفاء کریں جو پہلے لوگ حاصل کر چکے ہیں اور کیوں قرآنی کان میں سے ہم نئے ہیرے اور جواہرات نہ نکالیں۔پس میں قرآن کریم کے خزانہ میں گیا کیونکہ پہلے میں وہاں سے کئی بار عل و جواہر نکال چکا تھا، اور پھر اپنے دامن کو بھر کر لایا۔جب میں اس خزانہ میں قرآن کریم کی خوبیاں معلوم کرنے کے لئے گیا تو مجھے ایک عجیب بات سو جبھی۔اور وہ یہ کہ بجائے اس کے کہ اس خزانہ میں میں اندھا دھند ہاتھ ماروں اور جو چیز میرے ہاتھ میں آئے اسے اُٹھالوں حالانکہ ممکن ہے اس سے بہتر چیز وہاں موجود ہو اور میں اسے نہ اٹھا سکوں اس لئے کیوں نہ میں اصولی طور پر غور کروں کہ مجھے کیا لینا چاہئے۔تب مجھے خیال آیا کہ کسی کتاب کی 37