فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 434

فضائل القرآن — Page 35

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 35 تمام ادیان اور کتب الہامیہ پر قرآن کریم کی فضیلت ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن کریم ساری دنیا کے لئے اور سارے زمانوں کے لئے ہے۔اب اگر قرآن کریم ساری دنیا اور سارے زمانوں کے لئے ہے تو ہماری اس کے متعلق ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔یہ نسبت اس کے کہ قرآن کریم صرف عرب کے لئے ہوتا اور صرف ایک زمانہ کے مفاسد دور کرنے کے لئے آتا۔عربوں کے پاس کوئی شریعت نہ تھی کوئی مذہبی کتاب نہ تھی۔وہ خیالی باتوں پر یا قومی رسم و رواج پر عمل کرتے تھے۔ان کے متعلق ہمارے لئے صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ عرب چونکہ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا تھے قرآن کریم نے انہیں ان برائیوں سے روک دیا اس وجہ سے اس کی ضرورت تھی۔پس اگر عرب ہی کے لئے قرآن ہوتا تو قرآن کی فضیلت اور برتری ثابت کرنے میں کوئی دقت نہ تھی۔مگر ہم یہ کہتے ہیں که قرآن کریم ساری دنیا کے لئے آیا ہے اور یہودی بسیجی، ہندو، پارسی وغیرہ سب اس کے مخاطب ہیں اور تمام دوسری کتابیں جن کو الہامی درجہ دیا جاتا ہے یا وہ کتابیں جن کا پتہ آثار قدیمہ سے لگا ہے ان سب سے افضل ہے۔اس وجہ سے ہمارے لئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے یہ پہلی تمام کتابوں پر مقدم اور ان سے افضل ہے۔قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جو تورات میں نہیں۔قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جو پرانے صحیفوں میں نہیں۔قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جو اناجیل میں نہیں۔قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جو ویدوں میں نہیں۔اور قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جوزرتشت وغیرہ کی کتابوں میں بھی نہیں۔قرآن کریم ایک روحانی خزانہ ہے پھر قرآن کریم کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے ہمیں یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ قرآن کریم میں وہ روحانی خزانہ ہے جس کے بغیر دنیا میں ہم گزارہ نہیں کر سکتے۔صرف دوسری الہامی کتب کے مقابلہ میں زیادتی ثابت کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم نے جو چیز پیش کی ہے اس سے ایسی نئی سہولتیں بہم پہنچی ہیں جو پہلے حاصل نہ تھیں۔جب دو چیزیں صفات