فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 434

فضائل القرآن — Page 404

فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 404 کرے اور بتائے کہ کیوں غائب رہا۔اب بتاؤ کیا قرآن سے یہی پتہ لگتا ہے کہ پرندے ایسی عقل کے مالک ہیں کہ اگر ان سے کوئی قصور سرزد ہو تو آدمی تلوار لے کر کھڑا ہو جائے اور اُسے کہے کہ وجہ بیان کرو ورنہ ابھی تیرا سرکاٹ دوں گا۔یا کبھی تم نے دیکھا کہ تمہارا کوئی ہمسایہ ہد ہد کو پکڑ کر اُسے سوٹیاں ماررہا ہو اور کہ رہا ہو کہ میرے دانے تو کیوں کھا گیا؟ اور اگر تم کسی کو ایسا کرتے دیکھو تو کیا تم اُسے پاگل قرار نہیں دو گے؟ پھر وہ لوگ جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف یہ امر منسوب کرتے ہیں کہ انہوں نے ہدہد کے متعلق یہ کہا وہ اپنے عمل سے یہی فتویٰ حضرت سلیمان علیہ السلام پر بھی لگاتے ہیں بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام تو یہاں تک کہتے ہیں کہ میں اُسے سخت ترین سزا دوں گا اوَلَيَأْتِيَ بِسُلْطنٍ مُّبِينٍ ورنہ وہ ایسی دلیل پیش کرے جونہایت ہی واضح اور منطقی ہو۔گو یاوہ ہد ہد ، سقراط، بقراط اور افلاطون کی طرح دلائل بھی جانتا تھا اور حضرت سلیمان اس سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ اپنے دلائل پیش کرے گا۔(۲) پھر قرآن تو یہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان کے پاس جنوں، انسانوں اور کثیر کے لشکر تھے مگر حضرت سلیمان کی نظر صرف ہد ہد کی طرف جاتی ہے اور فرماتے ہیں مالِي لا اَرَی الْهُدَهُدَ کیا ہوا کہ اس لشکر میں ہد ہد کہیں نظر نہیں آتا۔حکومت کے نزدیک تو جس کا قد پانچ فٹ سے کم ہو وہ فوج میں بھرتی کے قابل نہیں سمجھا جاتا مگر حضرت سلیمان نے یہ عجیب بھرتی شروع کر دی تھی کہ ہد ہد بھی ان کے لشکر میں شامل تھا۔پھر ہد ہد کی کوئی فوج آپ کے پاس ہوتی تب بھی کوئی بات تھی۔بتایا یہ جاتا ہے کہ ہد ہد صرف ایک آپ کے پاس تھا اس ایک ہد ہد نے بھلا کیا کام کرنا تھا اور ایک جانور ساتھ لے جانے سے آپ کی غرض کیا تھی؟ (۳) تیسری بات یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے ہد ہد نے واپس آکر یہ یہ باتیں بیان کیں اور معجزہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بولی سمجھتے تھے حالانکہ اصولی طور پر یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا معجزہ بیان ہونا چاہئے تھا مگر بیان بد بد کا معجزہ ہوتا ہے جو سلیمان کے معجزہ سے بھی بڑھ کر ہے۔پھر پرندوں کی بولی سمجھنا حضرت سلیمان سے ہی مخصوص نہیں، تمام شکاری پرندوں کی آوازیں سمجھتے ہیں۔(۴) ایک اور بات یہ ہے کہ ہد ہد ان جانوروں میں سے نہیں جو تیز پرواز ہوں اور اس قدر