فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 434

فضائل القرآن — Page 405

فصائل القرآن نمبر۔۔۔405 ڈور کے سفر کرتے ہوں۔یہ جہاں پیدا ہوتا ہے وہیں مرتا ہے مگر قرآن یہ بتلاتا ہے کہ ہد ہد دمشق سے اُڑا اور ۸ سومیل اُڑتا چلا گیا۔یہاں تک کہ سبا کے ملک تک پہنچا اور پھر وہاں سے خبر بھی لے آیا۔گویا وہ ہد ہد آج کل کے ہوائی جہازوں سے بھی زیادہ تیز رفتار تھا اور معجزہ دکھلانے والا ہد ہد تھا نہ کہ حضرت سلیمان۔حالانکہ بتانا یہ مقصود تھا کہ حضرت سلیمان نے معجزہ دکھایا۔(۵) اسی ہد ہد کا دوسرا معجزہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شرک اور توحید کے بار یک اسرار سے واقف تھا اور اس کو وہ وہ مسائل معلوم تھے جو آج کل کے مولویوں کو بھی معلوم نہیں۔کتنی اعلیٰ تو حید وہ بیان کرتا ہے۔کہتا ہے۔وَجَدتُهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ یعنی میں نے اُس کو اور اُس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کے آگے سجدہ کرتے دیکھا اور شیطان نے اُن کے عمل اُن کو خوبصورت کر کے دکھائے ہیں اور اُن کو سچے راستہ سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہدایت نہیں پاتے۔پھر اس کی غیرت دینی دیکھو۔آج کل مولویوں کے اپنے ہمسایہ میں بت پرستی ہو رہی ہو تو وہ اس کے روکنے کی کوشش نہیں کرتے مگر بد د چاروں طرف دوڑا پھرتا ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو خبر لا کر دیتا ہے کہ فلاں جگہ شرک ہے فلاں جگہ بت پرستی ہے۔(۶) پھر وہ سیاسیات سے بھی واقف تھا کیونکہ وہ کہتا ہے کہ وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَى یعنی ملکہ سبا میں بادشاہت کی تمام صفات موجود ہیں اور اسے لوازم حکومت میں سے ہر چیز ملی ہوئی ہے۔گویا وہ اُس کے تمام خزانے اور محکمے چیک کر کے آیا اور اس نے رپورٹ کی کہ تمام وہ چیزیں جن کی حکومت کے لئے ضرورت ہوا کرتی ہے وہ اس کے پاس موجود ہیں۔(۷) پھر شیطان اور اُس کی کارروائیوں سے بھی وہ خوب واقف ہے کیونکہ وہ کہتا ہے میں جانتا ہوں کہ انسان کا جب شیطان سے تعلق پیدا ہو جائے تو برے خیالات اُس کے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں بلکہ ان خیالات کے نتائج سے بھی واقف تھا کیونکہ کہتا ہے کہ فَصَدَّ هُمْ عَنِ السَّبِیلِ ایسے خیالات کے نتیجہ میں انسان کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستہ سے دُور جا پڑتا ہے۔یہ ہد ہد کیا ہوا اچھا خاصہ عالم ٹھہرا۔ایسا ہد ہد تو اگر آج مل جائے تو اس کو مفتی بنادینا چاہئے۔