فضائل القرآن — Page 403
فصائل القرآن نمبر۔۔۔403 ترتیب قرآنی کے لحاظ سے خلق طیر اور احیائے موٹی کے معنی غرض ہمارے مخالف علماء جو معنی لیتے ہیں وہ ہر ترتیب کی رُو سے غلط ٹھہرتے ہیں مگر ہمارے معنوں کی رُو سے ترتیب پر کسی قسم کا اعتراض نہیں پڑتا۔ہم پرندے پیدا کرنے سے مراد روحانی آدمی پیدا کرنا لیتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص یہ پوچھے کہ مرزا صاحب نے کیا کیا؟ اور اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ انہوں نے ایک کام کرنے والی جماعت دنیا میں پیدا کر دی ہے تو بالعموم وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ کونسا بڑا کام ہے کیونکہ لوگوں کی نگاہ میں روحانی آدمی پیدا کرنا سب سے کم حیثیت رکھتا ہے اسی لئے اس کو پہلے رکھا۔پھر آكمة یعنی اندھراتے کا علاج ہے یہ چونکہ ایک جسمانی چیز ہے اور ہر ایک کو نظر آجاتی ہے اس لئے اسے بعد میں رکھا اور برص چونکہ اس سے زیادہ سخت ہے اس لئے آئمہ کے بعد ابرص کا ذکر کر دیا اور احیائے موٹی کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بالکل مردہ ہونے کی حالت تک پہنچ جائے اور دُعا سے زندہ ہو جائے۔برص والے اور اندھراتے والے کو گو سخت مرض ہوتا ہے مگر طاقت قائم ہوتی ہے لیکن جس کی نبضیں چھوٹ جائیں اور پھر کسی نبی یا پاکباز انسان کی دُعا سے زندہ ہو جائے وہ بڑا معجزہ ہوتا ہے۔پس ہمارے معنے تسلیم کرنے کی صورت میں یہ ترتیب بالکل درست رہتی ہے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں پڑتا۔ھد ھد کوئی پرندہ نہیں بلکہ انسان تھا ظیر کا دوسرا ذکر حضرت سلیمان کے حالات کے بیان میں آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا يَأَيُّهَا النَّاسُ عُلّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ اے لوگو! ہمیں پرندوں کی زبان سکھائی گئی ہے۔اب یہاں بھی طیر سے مراد تمام قسم کے پرندے نہیں اس لئے (1) جس وقت ہر ہر کہیں جاتا ہے حضرت سلیمان سخت ناراض ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں لَا عَنْبَنَهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْلَا ذَبَحَنَّهُ أَوْلَيَأْتِيَتِي بِسُلْطَنٍ مُّبِينٍ یعنی ہر ہر چونکہ غائب ہے اس لئے جب وہ آیا تو میں اُسے سخت سزا دوں گا، میں اُسے ذبح کر ڈالوں گا ورنہ وہ دلیل پیش