فضائل القرآن — Page 402
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 402 مشکل کام کوڑھی کو اچھا کرنا ہے اور اس سے مشکل کام مُردے زندہ کرنا ہے۔گویا اس صورت میں سب سے آسان تر بات پرندے بنانا ٹھہرتی ہے۔اب اگر یہ درست ہے تو کوئی مولوی ہمیں دو چار پرندے ہی بنا کر دکھا دے۔دوسری مشکل ان معنوں میں یہ پیش آتی ہے کہ قرآن کریم نے ایک اور جگہ احیائے موٹی کو ادنی اور پیدائش کو اعلیٰ قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ۔قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِ خَلْقٍ عَلِيمٌ " یعنی انسان کا یہ طریق ہے کہ وہ ہماری ہستی سے متعلق باتیں بنانے لگ جاتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے اور کہنے لگتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی تو پھر ان کو کون زندہ کرے گا؟ فرماتا ہے تم احیائے موٹی کا انکار اسی لئے کرتے ہو کہ تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ہڈیاں گل سڑ کر پھر کس طرح اصل شکل وصورت میں آجائیں گی۔حالانکہ جب اُس نے تمہیں ایک دفعہ پیدا کیا ہے تو دوسری دفعہ پیدا کرنا اُس کے لئے کیا مشکل ہے۔چنانچہ فرمایا ان لوگوں سے کہہ دے کہ ایسی ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کی حالت سے خوب واقف ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ مردہ زندہ کرنے کو اللہ تعالیٰ نے ادنیٰ قرار دیا ہے اور پیدائش کو اعلیٰ قرار دیا ہے مگر اُوپر کی ترتیب تسلیم کر لینے کی صورت میں پیدائش کو ادنی ماننا پڑتا ہے اور احیائے موٹی کو اعلیٰ۔پھر اس ترتیب سے کوڑھیوں کو اچھا کرنا پرندے پیدا کرنے کی نسبت زیادہ مشکل قرار پاتا ہے۔حالانکہ ڈاکٹر بھی چالموگرا آئیل کی پچکاریوں اور مالش وغیرہ سے کئی کوڑھیوں کو اچھا کر دیتے ہیں۔اب چاہئے تھا کہ جب کوڑھی اچھے ہورہے ہیں تو ان کوڑھیوں کے اچھا ہونے سے پہلے چڑیاں اور کبوتر بھی بننے شروع ہو جاتے حالانکہ انہیں کوئی انسان نہیں بنا سکتا۔اگر کہا جائے کہ اس ترتیب سے مخاطب کو زیادہ فائدہ پہنچتا ہے تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ اگر ایک یہودی کے سامنے حضرت مسیح چڑیا پیدا کرتے تو کیا وہ اس سے زیادہ متاثر ہو سکتا تھا یا اس سے زیادہ متاثر ہو سکتا تھا کہ آپ کسی کوڑھی یا مادر زاد اندھے کو اچھا کر دیتے۔پس جس چیز سے وہ زیادہ متاثر ہو سکتا تھا چاہئے تھا کہ اسے پہلے رکھا جا تا مگر رکھا اسے بعد میں ہے۔