فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 434

فضائل القرآن — Page 401

فصائل القرآن نمبر۔۔۔401 کی ترتیب اپنے مدنظر رکھ لو اور پھر سوچو کہ آیا پرندے بنانے والے معنی کسی صورت میں بھی یہاں چسپاں ہو سکتے ہیں؟ یہ صاف بات ہے کہ قرآن کریم کا کوئی لفظ ترتیب سے خالی نہیں۔فرض کرو ہم مان بھی لیں کہ اس جگہ پرندہ سے مراد پرندہ بنانا ہی ہے تو دیکھنا یہ چاہئے کہ ان معنوں کو تسلیم کر لینے کے بعد اس آیت میں کوئی ترتیب بھی پائی جاتی ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس آیت میں کوئی ترتیب نہیں مگر ہم اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ اس میں ترتیب ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ آیت دو جگہوں میں آتی ہے ایک سورۃ آل عمران میں اور دوسرے سورۃ مائدہ میں اور دونوں جگہ الفاظ اسی ترتیب سے رکھے گئے ہیں۔اب دونوں جگہ ان الفاظ کا اسی ترتیب سے رکھا جانا بتاتا ہے کہ اس میں کوئی خاص مقصد ہے۔ہم تو قرآن کریم کی ہر آیت میں ترتیب کے قائل ہیں مگر جو لوگ اس کے قائل نہیں انہیں بھی اگر کسی اور جگہ نہیں تو اس جگہ ترتیب ضرور ماننی پڑتی ہے کیونکہ پہلے خَلْقِ طير کا ذکر ہے پھر آكمة کا ذکر ہے پھر ابرص کا اور پھر اِحیائے موٹی کا اور ان کا ذکر ایک جگہ نہیں بلکہ دونوں جگہ اسی ترتیب سے کیا گیا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ترتیب میں دو باتوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔کبھی چھوٹی بات پہلے بتائی جاتی ہے پھر اس سے بڑی بات بتائی جاتی ہے اور پھر اُس سے بڑی اور کبھی پہلے سب سے بڑی بات بتائی جاتی ہے پھر اس سے چھوٹی بات بتائی جاتی ہے اور پھر اُس سے چھوٹی اور ان دونوں ترتیبوں میں مخاطب کا فائدہ مد نظر رکھا جاتا ہے۔یعنی جس رنگ میں وہ آسانی سے سمجھ سکتا ہو اسی رنگ میں بات بیان کر دی جاتی ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ معنی کئے جائیں جو ہمارے مخالف لیتے ہیں تو ان معنوں میں کوئی ترتیب ہی نظر نہیں آتی کیونکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت میں پہلے سب سے بڑی بات کو بیان کیا گیا ہے اور پھر اس سے چھوٹی بات کو اور پھر اس سے چھوٹی بات کو تو اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ سب سے بڑی چیز پرندوں کا پیدا کرنا ہے۔اس سے اتر کر اندھوں کو آنکھیں بخشا۔اس سے اتر کر کوڑھیوں کو اچھا کرنا اور اس سے اتر کر مردوں کو زندہ کرنا۔حالانکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ مردہ زندہ کرنا سب سے بڑی بات ہے۔پس یہ ترتیب صحیح نہیں ہو سکتی اور اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ پہلے سب سے چھوٹی بات کو بیان کیا گیا ہے اور پھر اس سے بڑی بات کو اور پھر اس سے بڑی بات تو اس کے یہ معنی بنتے ہیں کہ سب سے آسان کام دنیا میں پرندے بناتا ہے۔اس سے مشکل کام اندھوں کو آنکھیں دینا ہے۔اس سے