فضائل القرآن — Page 400
فصائل القرآن نمبر۔۔۔400 قابلیت ہوتی ہے وہ اڑنے لگ جاتے ہیں۔پھر زیادہ سے زیادہ پرندے چالیس دن تک انڈوں کو سیتے رہتے ہیں بلکہ بعض تو اس سے بھی کم عرصہ میں پیدا ہو جاتے ہیں اور غالبا اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اعلان کیا کہ جو شخص میرے معجزات کا منکر ہو، وہ چالیس دن میرے پاس رہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور کوئی نہ کوئی معجزہ دکھا دے گا۔اب جو شخص فطرت صحیح رکھتا ہے وہ تو بہت جلد نبی کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے مگر جس طرح سخت چھلکے کا انڈا چالیس دن لیتا ہے اسی طرح نبی کی صحبت میں اگر کوئی سخت دل انسان بھی چالیس دن رہے تو وہ کوئی نہ کوئی معجزہ دیکھ لیتا ہے۔اس لئے قرآن کریم نے نصیحت فرمائی ہے کہ کُونُوا مَعَ الصَّادِقِيْنَ ۳۹ یعنی اے وہ لوگو! جن میں نیکی کی قابلیت تو ہے مگر تم ابھی انڈے کی حد تک ہی ہو پرندے نہیں بنے تم کسی صادق کے پروں کے نیچے چلے جاؤ تم تھوڑے دنوں میں ہی پرندے بن جاؤ گے۔ایک لطیفہ تَشَابَهَ الخلق کے الفاظ پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی مولوی کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے جو پرندے بنائے تھے وہ کہاں چلے گئے؟ آپ کا مطلب یہ تھا کہ ممکن ہے اس کا ذہن اس طرف چلا جائے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی پرندے بنائے ہیں اور خدا نے بھی تو پھر تو تشابه في الخلق ہو گیا اور یہ قرآن کے خلاف ہے۔کہنے لگا کہ دوچے ہی رل مل گئے ہیں۔“ ترتیب مضامین کے لحاظ سے غور اب میں بتاتا ہوں کہ خود یہی آیت اُن معنوں کو ر ڈ کرتی ہے جو عام لوگ لیتے ہیں۔یہ ساری آیت یوں ہے حضرت مسیح فرماتے ہیں۔آئی قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ « انّي اَخْلُقُ لا لكُم مِّنَ الطِينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ وَأُبْرِئُ الأَكْمَة وَالْأَبْرَصَ وَأحْيِ الْمَوْثى بِاِذْنِ اللهِ، وَأَنْبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَتَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ہے اس آیت