فضائل القرآن — Page 397
فصائل القرآن نمبر۔۔۔کرے گا اور ہماری کسی چیز کو نقصان نہیں پہنچے گا۔وادی النمل کی تحقیق 397 باقی رہا وَادِ النَّمل کے الفاظ سویا درکھنا چاہئے کہ تاج العروس جو لغت کی مشہور کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ شام کے ملک میں جبرین اور عسقلان کے درمیان ایک علاقہ ہے جسے وادی النمل کہا جاتا ہے۔۳۳ اور عسقلان کے متعلق تقویم البلدان صفحہ ۲۳۸ پر لکھا ہے کہ عسقلان ساحل سمندر کے بڑے بڑے شہروں میں سے ایک شہر تھا جو غزّ سے جو سینا کے ملحق فلسطین کی ایک بندرگاہ ہے بارہ میل اوپر شمال کی طرف واقع ہے اور جبرین شمال کی طرف کا ایک شہر معلوم ہوتا ہے جو ولایت دمشق میں واقع ہے۔اسے پس وادی النمل ساحل سمندر پر یروشلم کے مقابل پر یا اس کے قریب دمشق سے حجاز کی طرف آتے ہوئے ایک وادی ہے جو انداز ادمشق سے سومیل نیچے کی طرف ہوگی۔ان علاقوں میں حضرت سلیمان کے وقت تک عرب اور مدین کے قبائل بہت بستے تھے۔(مقام کی وضاحت کے لئے دیکھو نقشہ فلسطین وشام بعہد قدیم و عهد جدید نیلسنز انسائیکلو پیڈیا) اب رہ گیا نملہ سو قاموس میں البرٹی کے ماتحت لکھا ہے۔وَالْأَبْرَقَةُ مِنْ مِيَاهِ نَمْلَةَ ۳۵ یعنی ابرقہ ایک وادی ہے جہاں نملہ قوم کے چشمے ہیں۔غرض نملہ قوم بھی مل گئی ، وادی النمل کا بھی پتہ لگ گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ علاقہ شام میں حضرت سلمان کے علاقہ کے نزدیک تھا اور یہ عجیب بات ہے کہ اس قسم کے نام پرانے زمانہ میں بڑے مقبول تھے۔چنانچہ جنوبی امریکہ میں بعض قوموں کے نام بھیٹر یا، سانپ ، بچھو اور سنکھجو روغیرہ ہوا کرتے تھے بلکہ ہمارے ملک میں ہی ایک قوم کا نام کا ڈھا ہے۔نورالدین کا ڈھالا ہور کے ایک مشہور شخص ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک قوم کا نام کیڑے ہے ایک کا نام مکوڑے ہے۔کشمیر میں ایک قوم کا نام ہاپت ہے جس کے معنی ریچھ کے ہیں اسی طرح حضرت سلیمان جس جگہ سے گزرے وہاں جو قوم رہتی تھی اُس کا نام نملہ تھا۔