فضائل القرآن — Page 398
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔398 خَلقِ طير کا مسئلہ اب میں طیر کی بحث کو لیتا ہوں۔طیر کے متعلق جو امور قابل غور ہیں ان میں سے ایک اہم امر خلق طیر کا مسئلہ ہے۔میں اس کے متعلق گذشتہ سے پیوستہ سال جلسہ سالانہ کی تقریر میں روشنی ڈال چکا ہوں لیکن مضمون کی تکمیل کے لئے پھر مختصراً اسے دہرا دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرية وَالْإِنجِيلَ وَرَسُولًا إِلى بَنِي إِسْرَاءِيلَ : أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ أَنِّي أخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ " یعنی ہم نے مریم کو الہام کیا کہ ہم تجھے ایک بیٹا عطا کریں گے جسے اللہ تعالیٰ کتاب اور حکمت کی باتیں سکھائے گا اور بنی اسرائیل کی طرف اُسے اس پیغام کے ساتھ رسول بنا کر بھیجے گا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے یہ نشان لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے فائدہ کے لئے پانی ملی ہوئی مٹی یعنی طینی خصلت رکھنے والوں میں سے پرندہ کے پیدا کرنے کی طرح ایک مخلوق تجویز کروں گا۔پھر میں اُس میں ایک نئی روح پھونکوں گا جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اُڑنے والے ہو جائیں گے۔دوسری جگہ فرماتا ہے وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَيةَ وَالْإِنْجِيلَ ، وَإِذْ تخلُقُ مِنَ الطِيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ٣٧ یعنی اللہ تعالیٰ حضرت مسیح سے فرمائے گا کہ تو اُس وقت کو بھی یاد کر جب کہ میں نے تجھے کتاب اور حکمت سکھائی اسی طرح تو راہ اور انجیل سکھائی اور اُس وقت کو بھی یاد کر جبکہ تو میرے حکم سے طینی خصلت رکھنے والے افراد میں سے پرندہ کے پیدا کرنے کی طرح ایک مخلوق تجویز کرتا تھا پھر تو اُس میں پھونک مارتا تھا جس سے وہ میرے حکم سے اُڑنے کے قابل ہو جاتا۔اب یہاں دونوں جگہ پرندے کا ذکر آتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ استعارہ ہے یا حقیقت؟ اگر حقیقتا پرنده مان کر کوئی دوسری آیت باطل ہوتی ہے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ استعارہ ہے۔اس نقطۂ نگاہ سے جب ہم قرآن کی اور آیات پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ایک آیت ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ ام جَعَلُوا لِلهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَة الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ، قُل اللهُ خَالِقُ كُل شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۳۸ یعنی کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ایسے شریک تجویز کئے ہیں