فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 434

فضائل القرآن — Page 395

فصائل القرآن نمبر۔۔۔شملہ سے کیا مراد ہے؟ 395 اب اس کے بعد میں نملہ کو لیتا ہوں کہ یہ کیا چیز ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں کہ حَتَّى إِذَا آتَوْا عَلَى وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَأَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسْكِنَكُمْ لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَنُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ جب وہ وادی نملہ میں پہنچے تو ایک نملہ نے کہا اے نملہ قوم ! اپنے اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ۔ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کا لشکر تمہارے حالات کو نہ جانتے ہوئے تمہیں اپنے پاؤں کے نیچے مسل دیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ نملہ سے کیا مراد ہے؟ پہلی بات جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نملہ سے مراد چیونٹی نہیں یہ ہے کہ ذکر تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو منطق الطیر سکھائی مگر اس کی دلیل یہ دی گئی کہ چیونٹی بولی تو حضرت سلیمان سمجھ گئے کہ اُس نے کیا کہا ہے۔حالانکہ جب دعویٰ یہ تھا کہ حضرت سلیمان کو پرندوں کی بولی آتی تھی تو دلیل میں مثلاً یہ بات پیش کرنی چاہئے تھی کہ فلاں موقع پر بلبل بولی اور حضرت سلیمان نے کہا بلبل یہ کہہ رہی ہے مگر وہ کہتے ہیں چیونٹی بولی تو حضرت سلیمان کو سمجھ آگئی حالانکہ چیونٹی پرندہ نہیں۔پس نملہ سے مراد اگر چیونٹی لی جائے تو یہ دلیل بالکل عقل میں نہیں آسکتی کیونکہ قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو منطق الطیر آتی تھی اور وہ اس کو سمجھتے تھے مگر بولنے لگ جاتی ہے نملہ اور وہ اس کی بات کو سمجھ جاتے ہیں۔غرض پہلی بات جس پر غور کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ نملہ کیا چیز ہے؟ دوسری چیز یہ دیکھنے والی ہے کہ یہاں حکم کا لفظ آیا ہے اور حَظم کے معنی ہوتے ہیں توڑنے اور غصہ سے حملہ کرنے کے۔عام طور پر لوگ اس کا ترجمہ یہ کر دیتے ہیں کہ سلیمان اور اُس کا لشکر تمہیں اپنے پیروں کے نیچے نہ مسل دے مگر یہ خطہ کے صحیح معنی نہیں۔عربی میں حطم کے معنی توڑ دینے اور غصہ میں حملہ کر دینے کے ہیں۔اسکے چنانچہ قرآن کریم میں دوزخ کی آگ کا ایک نام خطمہ بھی رکھا گیا ہے کیونکہ وہ جلا دیتی ہے۔یہ مطلب نہیں کہ آگ کے پاؤں ہو گئے اور وہ دوزخیوں کو اپنے پیروں کے نیچے مسل ڈالے گی۔تو لا تخطمَنَّكُمْ کے معنی یہ ہوئے کہ ایسا نہ ہو کہ