فضائل القرآن — Page 394
فصائل القرآن نمبر۔۔۔394 تھے اس لئے اُن کا کھانا ہمارے گھر میں ہی تیار ہوتا تھا۔مغرب کے وقت جب کھانا تیار ہوا تو اندر سے خادمہ نے آواز دی کہ پیرے! کھانا لے جاؤ۔وہ نماز پڑھ رہا تھا اور یہ اُس کی پانچویں نماز تھی لیکن بُلانے والی عورت کو اس کا علم نہ تھا اس لئے وہ برابر آوازیں دیتی گئی۔اس پر پیرا نماز میں ہی زور سے کہنے لگا۔ٹھیر جا۔التحیات ختم کر کے آندا ہاں۔“ ایک دفعہ کسی کام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُسے بٹالہ بھیجا۔وہاں اسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مل گئے۔وہ اکثر لوگوں کو قادیان آنے سے باز رکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔اُس دن اتفاقاً انہیں اور کوئی نہ ملا تو انہوں نے پیرے کو ہی پکڑ لیا اور کہا۔پیرے! تو کیوں قادیان بیٹھا ہے؟ پیرے نے جواب دیا مولوی صاحب! میں پڑھا لکھا تو ہوں نہیں ، ہاں ایک بات ہے جو میں جانتا ہوں اور وہ یہ کہ مرزا صاحب قادیان میں بیٹھے ہیں اور لوگ دُور دُور سے یگوں میں دھکے کھا کھا کے ان کے پاس پہنچتے ہیں مگر آپ بٹالہ میں رہتے ہیں جہاں لوگ آسانی کے ساتھ پہنچ سکتے ہیں مگر آپ کے پاس کوئی نہیں آتا۔حتی کہ روزانہ لوگوں کو سمجھانے کے لئے آپ خود سٹیشن پر آتے ہیں اور شاید اس کوشش میں آپ کی جوتی بھی گھس گئی ہوگی لیکن لوگ آپ کی بات نہیں مانتے۔آخر کوئی بات تو ہے کہ لوگ مرزا صاحب کی طرف اس طرح کھچے چلے جاتے ہیں اور آپ کو کوئی نہیں پوچھتا۔غرض اس قسم کے آدمی ہی جن ہوتے ہیں جو کسی کی بات نہیں مانتے اور دوسرے کی اطاعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے مگر جب انبیاء کے سامنے آتے ہیں تو یکدم ان کی حالت بدل جاتی ہے۔حضرت عمرؓ کو ہی دیکھ لو۔وہ ابتداء میں اسلام کی کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے تھے اور ایک دفعہ تو انہیں یہاں تک جوش آیا کہ تلوار سونت لی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکل کھڑے ہوئے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کے قدموں میں گر گئے۔تو بعض طبائع ناری ہوتی ہیں مگر جب نبیوں کے سامنے جاتی ہیں تو ٹھنڈی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ایسی طبیعت رکھنے والے انسانوں کو عربی زبان میں جن کہتے ہیں۔اسی طرح بڑے لوگوں کو اس لحاظ سے بھی جن کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نگاہ سے بالعموم مخفی رہتے ہیں۔بڑی بڑی کوٹھیوں میں اُن کی رہائش ہوتی ہے اور اُن کے دروازہ پر لوگ آسانی سے نہیں پہنچ سکتے۔