فضائل القرآن — Page 393
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔393 کی خدمت میں لکھا کہ میری ہمشیرہ کے پاس جن آتے ہیں اور وہ آپ پر ایمان لانے کے لئے تیار ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں لکھا کہ آپ جنوں کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ ایک عورت کو کیوں ستاتے ہو اگر ستانا ہی ہے تو مولوی محمد حسین بٹالوی یا مولوی ثناء اللہ کو جا کر ستائیں ایک غریب عورت کو تنگ کرنے سے کیا فائدہ؟ بیشک کئی ایسے لوگ ہونگے جو انگریزی تعلیم کے ماتحت پہلے ہی اس امر کے قائل ہوں کہ ایسے جنات کا کوئی وجود نہیں لیکن مومن کے سامنے یہ سوال نہیں ہوتا کہ اُس کی عقل کیا کہتی ہے بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے۔اگر قرآن کہتا ہے کہ جن موجود ہیں تو ہم کہیں گے امنا و صدقنا اور اگر قرآن سے ثابت ہو کہ انسانوں کے علاوہ چن کوئی مخلوق نہیں تو پھر ہمیں یہی بات ماننی پڑے گی۔متکبر قوموں اور اُمراء کو بھی جن کہا جاتا ہے اصل بات یہ ہے کہ بعض قو میں بڑی متکبر ہوتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اونچا اور بلند مرتبہ بجھتی ہیں۔ایسی قوموں کے بڑے بڑے صنادید کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے دروازے پر لے آتا ہے اس لئے یہ لوگ جن کہلاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا ہی واقعہ ہے۔ایک نہایت جاہل شخص یہاں ہوا کرتا تھا پیرا اُس کا نام تھا۔اُسے دو چار آنے کے پیسے اگر کوئی شخص دے دیتا تو وہ دال میں مٹی کے تیل کی آدھی بوتل ڈال کر کھا جاتا۔دین کی معمولی معمولی باتوں سے بھی اتنا نا واقف تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تیرا مذ ہب کیا ہے؟ وہ اُس وقت تو خاموش رہا مگر دوسرے تیسرے دن آپ کے پاس ایک کارڈ لایا کہ ہمارے گاؤں کے نمبر دار کو لکھ دیں۔آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لکھنا ہے؟ تو وہ کہنے لگا آپ نے جو میرا مذہب دریافت کیا تھا۔میں نمبر دار کو لکھ کر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ میرا مذہب کیا ہے؟ حضرت خلیفہ اول ہمیشہ اُس کے پیچھے پڑے رہتے تھے کہ نماز پڑھو مگر وہ کہتا کہ مجھے نماز نہیں آتی صرف سُبحان الله سبحان اللہ کہنا آتا ہے۔خیر ایک دن حضرت خلیفہ اول نے پیرے سے کہا کہ اگر تم ایک دن پورے پانچ وقت کی نمازیں جماعت سے ادا کرو تو میں تمہیں دوروپے انعام دونگا۔اُس نے عشاء سے نماز شروع کی اور اگلی مغرب کو پوری پانچ ہوتی تھیں۔اُن دنوں مہمان چونکہ تھوڑے ہوتے